29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

ماہ ذی الحجہ اور اس کی فضیلت

محمد وسیم خان اشرفی جالوی قطبیہ ایجو کیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کولکاتا Post Date: 2025-05-31

ماہ ذی الحجہ اور اس کی فضیلت

ماہ ذی الحجہ اور اس کی فضیلت


ماہ ذی الحجہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ہے۔ تاریخ اسلام میں اس ماہ مقدس کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ حرمت والے مہینے میں سے ایک مہینہ ہے ۔ 

اس اعتبار سے اس کا احترام'باہمی جنگ وجدل سے گریز کرنا'حتی کہ اگر دشمن حملہ آور نہ ہو تو ان سے بھی جنگ میں پہل کرنا حرمت والے مہینوں میں جائز نہیں۔فرمانِ باری تعالی ہے:


﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهورِ عِندَ اللَّهِ اثنا عَشَرَ شَهرًا فى كِتـٰبِ اللَّهِ يَومَ خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَرضَ مِنها أَربَعَةٌ حُرُمٌ ذ‌ٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ فَلا تَظلِموا فيهِنَّ أَنفُسَكُم ...﴿٣٦﴾... سورة التوبة


بے شک اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس میں سے چار حرمت والے ہیں یہی سیدھا دین ہے سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔

یہ آیت دلیل ہے کہ چار مہینے حرمت والے ہیں۔ان مہینوں کی وضاحت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:


"إن الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السموات والأرض السنة اثنا عشر شهرا منها أربعة حرم:ثلاث متواليات ذوالقعدة و ذوالحجة والمحرم و رجب مضرالذى بين جمادى و شعبان"(صحیح بخاری 4662)


زمانہ گھوم کر (مہینوں کی ترتیب کی)اس ہیئت میں آگیا ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔سال بارہ مہینے کا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔تین مہینے ذوالقعدہ'ذوالحجہ اور

محرم لگاتار ہیں اور چوتھا مہینہ رجب جو جمادی (الآخرۃ) اور شعبان کے درمیان ہے۔

قرآن شریف میں اللہ پاک کا ارشاد ہے۔


 وَ الْفَجْرِ(1)وَ لَیَالٍ عَشْرٍ۔


قسم ہے فجر کی! اور دس راتوں کی!،(الفجر:5-1)


ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں : واللیالی العشر: المراد بہا عشر ذی الحجۃ کما قاله ابن عباس وابن الزبیر ومجاہد وغیر واحد من السلف والخلف (تفسیر ابن کثیر)


دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے۔جیسے کہ ابن عباس، ابن زبیر، مجاہد اور ان کے علاوہ سلف و خلف نے کہا ہے۔(تفسیر ابن کثیر) جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ حج کا اہم رکن وقوف عرفہ اور قربانی کا فریضہ اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے ماہ رمضان کے بعد اخروی کامیابی حاصل کرنے کا ان ایام میں بہترین موقع ہے۔

حضور اکرم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کے نزدیک عشرۂ ذوالحجہ کے دنوں سے افضل کوئی دن نہیں۔(ابن حبان،کتاب الحج)

ترمذی شریف میں ہے:


"عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِکَ بِشَيْئٍ."

(باب ما جاء في العمل في أيام العشر)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا: ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں کیے گئے اعمالِ صالحہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام ایام میں کیے گئے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔ صحابۀ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اگر ان دس دنوں کے علاوہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے تب بھی؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں! تب بھی اِن ہی اَیام کا عمل زیادہ محبوب ہے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی جان و مال دونوں چیزیں لے کر جہاد میں نکلا اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی واپس نہ ہوا (یعنی شہید ہوگیاتو یہ افضل ہے)۔

وفیه أیضاً:

"عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ."

( باب ما جاء في فضل صوم يوم عرفة)

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا:  مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے۔ 

وفیه أیضاً:

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ يَعْدِلُ صِيَامُ کُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ کُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْر."

(باب ما جاء في العمل في أيام العشر)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکریم صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی عبادت تمام دنوں کی عبادت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ان ایام میں سے (یعنی ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں) ایک دن کا روزہ پورے سال کے روزوں اور رات کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے۔

ارشاد فرمایا: اللہ کریم کے نزدیک حج کے ان دس دنوں سے افضل اور پسندیدہ کوئی دن نہیں لہذا ان دنوں میں سُبْحَانَ اﷲِ،اَلْحَمْدُ ِﷲ ِ،لَااِلٰہَ اِلَّا ﷲُ اور اَللہُ اَكْبَرْکی کثرت کیا کرو ۔ایک روایت میں ہے کہ ان دنوں میں سُبْحَانَ اﷲِ،اَلْحَمْدُ ِﷲِ،لَااِلٰہَ اِلَّا اﷲُ اور ذکراللہ کی کثرت کیا کرو اور ان میں سے ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور ان دنوں میں عمل کو سات سو گنا بڑھا دیا جاتاہے ۔( شعب الایمان ،باب فی الصیام )

روایت  کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی ۔ اے میرے پروردگار ! میں نے تیری بارگاہ میں التجا کی (کہ تو مجھے اپنے جمال جہاں آرا کا مشاہدہ کرا ) تو تونے میری آرزو قبول نہ فرمائی ۔ اب مجھے ایسی دعا سکھا جس کے ساتھ میں تجھے پکاروں تو اللہ تعالی نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی اور فرمایا ۔ اے موسیٰ ! جب ذی الحجہ کے دس دن داخل ہو جائیں تو تو پڑھا کر لَااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ تو میں تیری حاجت پوری کر دوں گا ۔ عرض کی اے رب ! یہ تو تیرے تمام بندے پڑھتے ہیں ۔ مجھے کوئی خاص ذکر سکھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! ان دنوں میں جس نے ایک دفعہ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھ لیا تو اگر سات آسمان اور سات زمینیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں اور دوسرے پلڑے میں لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رکھ دیا جاۓ تو لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ والا پلڑا ان تمام سے وزنی ہوگا۔  

حضرت سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے نے فرمایا ۔ میں بصرہ کے مسلمانوں کے قبرستان میں ذی الحجہ کی ایک رات گردش کررہا تھا تو اچانک ایک آدمی کی قبر سے نور ظاہر ہوا ۔ میں کھڑے ہوکر سوچنے لگا تو اچانک بلند آواز سے پکارا گیا ۔ اے سفیان ! عشرۀ ذی الحجہ میں روزے رکھا کرو تو تمہیں بھی اسی قسم کا نور عطا کیا جاۓ گا۔ ( زبدة الواعظین )

معلوم ہوا کہ ان دنوں میں عبادات میں اضافہ کرنا چاہیے۔ نمازوں کا اہتمام، قرآن کی تلاوت اور دعا میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کو اپنی ایمان میں مضبوطی پیدا کرنے اور اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 

از محمد وسیم خان اشرفی جالوی قطبیہ ایجو کیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کولکاتا

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A