نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنے آستینوں میں
خالق کائنات کا بے پایاں احسان و کرم ہے کہ اپنے بندوں کے رشد و ہدایت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام و رسولان عظام کی مقدس جماعتوں کو صفحہ ہستی پر سر چشمۂ ہدایت بنا کر مبعوث فرمایا ، تمام نبیوں کے خاتم وسردارہم سب کے آقا محبوب رب المشرقین رسول الثقلین نبی الحرمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ با برکات ہے ۔
خدا تعالیٰ نے ان نفوس قدسیہ کے بعد یہ ذمہ داری اولیاے کاملین و علماے ربانیین کے سپرد کیا جو ہر دور میں کفر و شرک کے دلدل میں پھنسے اور ضلالت و گمراہی کے عمیق غار میں گرے ہوئے لوگوں کو خلوص و للٰہیت کے ساتھ صراط مستقیم پر گامزن کرتے رہے اور پوری زندگی محبت رسول کی بھینی بھینی خوشبو پھیلاتے اور عشق رسول کا چراغ جلاتے رہے اس نورانی سلسلے کی ایک عظیم کڑی جن کی مجلسوں میں دنیا کی رنگین باتیں اور عیش و عشرت اور تعیش کی کہانیاں نہیں بلکہ قال اللہ و قال الرسول کی صدائوںاور سلف صالحین کے تذکروں سے معمور ، بالخصوص ہند کے بادشاہ خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ و ارضاہ عنا کی سیرت پاک کے بیان کی خوشبوئوں سے معطر ہوا کرتی تھیں ، آپ کی مجلس میں ہر آنے والاشخص الفت رسول و آل رسول سے مخمور ہو جاتا تھا ۔
اس عظیم المرتبت ذات کو دنیا ، افتخارِ علم و حکمت ،بقیۃ السلف ، عمدۃ الخلف شہزادۂ حضور سرکار کلاں ، مخدوم العلماء ،شیخ اعظم حضرت علامہ الحاج سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام نامی اسم گرامی سے جانتی ہے ۔خاندان رسالت کا یہ چشم و چراغ اپنی جبین پر سعادت کا نور لے کر 6 محرم الحرام 1355ھ بمطابق 1935ء بمقام کچھوچھہ مقدسہ مخدوم المشایخ سرکار کلاں کی آنکھوں کا نور بن کر آیا اور آپ کی آغوش تربیت میں پروان پا کر علم و حکمت کا آفتاب اور فکر و فن کا گوہر تابدار بنا ۔ پس حضرت شیخ اعظم کو آپ کے پر دادا اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کی دعا ئے خاص اور آپ کے والد و مرشد گرامی حضور سرکار کلاں کی نگاہ خاص نے با کمال و با فیض اور روحانیت کا امین بنا دیا تھا ۔آپ نے اپنی حیات طیبہ میں جہاں بہت سارے کار ہائے نمایاں انجام دیے وہیں تر ویج و اشاعت دین حق میں بھی نمایاں کارنامہ انجام دیا ۔ آپ نے ہزاروں علما کے سروں پر دستار فضیلت باندھی اور جبہ و خلعت سے سرفراز فرمایا ۔ آپ ایک عظیم خانقاہ کے صرف سجادہ نشین نہیں بلکہ دین اسلام کے سچے مبلغ ، وقت کے جید عالم دین ، عمدہ خطیب ، تفسیر و حدیث کے نکتہ داں مدرس ، حلم و برد باری کے پیکر، خانقاہوں کی زینت ، میدان علم و عرفان کے شہسوار اور بلند پایہ شاعر بھی تھے ۔ آپ کی شخصیت کا ہر پہلو بڑا تابناک اور بے مثال نظر آتا ہے آپ نے لاتعداد افراد کو محبوب یزدانی سرکار مخدوم اشرف سمنانی کے دامن سے منسلک کر دیا ۔
شیخ عرب و عجم حضرت شیخ المشایخ محبوب ربانی حضور اعلیٰ حضرت سید علی حسین اشرفی میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح حضور شیخ اعظم نے بھی سلسلہ اشرفیہ کو ہند اور بیرون ہند میں فروغ بخشا ، ذٰلک فضل اللہ یؤ تیہ من یشاء ، حضور شیخ اعظم باہمت و با حوصلہ تھے ۔ آپ کے مزاج میں استقلال تھا ۔ جہدِ مسلسل اور عمل پیہم کے ذریعہ ہر کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتے تھے ۔ آپ نے مخالف ماحول میں بھی حق و ہدایت کا چراغ روشن کیا اور ہر حال اور ہر مقام پر دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیتے رہے اور ایک سچے داعی ہونے کا حق ادا کیا ۔ آپ کی رفتار ، وعباد الرحمن الذین یمشون علی الا رض ہونا ، کی عملی تصویر تھی ۔ آپ کی گفتار ،لم تقولون مالاتفعلون ، کی عملی تفسیر تھی اور آپ کی پاکیزہ حیات ، یا مرون بالمعروف و ینھون عن المنکر ، کی عملی تنویر تھی ۔ آپ بزر گان دین کی کرامتوں میں سے ایک کرامت ،خواجہ ہند الولی کی عنایتوں میں سے ایک عنایت اور شریعت و طریقت کے سنگم تھے ۔ آپ کے روز و شب اخلاص و وفا ، صدق و صفا اور جود و عطا میں گزرے اور اپنی زندگی میں ایسے نقوش چھوڑے جو گم گشتگان راہ کے لئے مینارۂ ہدایت اور رہبران حق کے لیے عظیم سرمایہ ہے ۔
علم و عمل کے اس شہسوار اور شریعت و طریقت کے اس تاجدار نے 30 ربیع الاول شریف 1433 ھ مطابق 22 فروری 2012ء جمعرات کی درمیانی شب بمقام ممبئی اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ فرمایا ۔ یکم ربیع الثانی بروز جمعہ بعد نماز عصر آپ کے خلف اکبر قائد ملت حضرت علامہ الحاج سید شاہ محمود اشرف اشرفی جیلانی مدظلہ النورانی نے لاکھوں کے مجمع میں نماز جنازہ پڑھائی اورآپ کا مزار اقدس آپ کے والد ماجد حضور سرکار کلاں علیہ الرحمہ کے پہلو میں جو مرجع خلائق ہے۔۔
حضور شیخ اعظم آج ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن اپنی بے مثال خدمات کے سبب ان کی یاد ہمیشہ دلوں میں رہیں گی اور ان کے تذکرے کی خوشبو ہمارے مشام جاں کو معطر کرتی رہے گی ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شیخ اعظم کے درجات بلند کرے اور ان کے لگائے ہوئے باغ کو ہمیشہ سبز و شاداب رکھے ۔ الٰہی ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد ۔
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.