اظہارِ تشکر و امتنان
- الحمد للہ علیٰ إحسانہ، والصلاۃ والسلام علیٰ نبیہ وعلیٰ آلہ وأصحابہ!
زیارتِ حرمین شریفین کی سعادت حاصل کرنے کے بعد جب مورخہ 7 اکتوبر 2026ء کو عروس البلاد ممبئی کے ہوائی اڈے پر پہنچا تو یہ دیکھ کر دل بے حد مسرور ہوا کہ خلیفۂ حضور تاج الاسلام، جانشینِ خلیفۂ قطب المشایخ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد منظر حسن خان اشرفی مصباحی صاحب قبلہ، بانی المرکز الاسلامی، اشرفی دربار، بہار، و دارالعلوم فیضانِ قطب المشایخ، ممبئی؛ عزیزِ قدر حضرت حافظ و قاری محمد کمال خان اشرفی صاحب؛ محبِ گرامی جناب ہیرا خان صاحب جبل پوری؛ عمِ مکرم جناب محمد عمر خان صاحب؛ جناب مجاہد خان صاحب جالے، دربھنگہ؛ جناب عبید الرحمن چمن خان صاحب؛ جناب چاند خان صاحب؛ جناب مبارک خان صاحب اور دیگر محبین و مخلصین اس ناچیز و سراپا تقصیر کو خوش آمدید کہنے اور اپنے ساتھ لے جانے کے لیے ممبئی ایئرپورٹ تشریف لائے تھے۔
آپ حضرات کی محبت، خلوص اور والہانہ استقبال نے سفر کی ساری تھکن دور کر دی اور دل کو سرشارِ مسرت کر دیا۔ میں تمام احباب کا صمیمِ قلب سے شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اپنی محبتوں سے نواز کر اس سفر کو یادگار بنا دیا۔
ام البلاد کولکاتا میں والہانہ استقبال
ممبئی سے کولکاتا 9 اکتوبر کو پہنچنے پر بھی احباب و متعلقین کی محبتوں کا ایک دل نشیں منظر دیکھنے کو ملا۔ شہرِ نشاط کولکاتا میں محبین کا ہجوم دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ *محسنِ قوم و ملت حضرت علامہ مولانا الحاج محمد روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ* نے اپنی خصوصی شفقت کا مظاہرہ فرماتے ہوئے دیگر احباب کے ہمراہ اپنی گاڑی بھیج کر جس محبت و اپنائیت کا ثبوت دیا، وہ میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔
اس موقع پر حضرت قاری شہنواز حسین صاحب، عزیزم شیزان صاحب، حضرت مولانا عمران خان اشرفی صاحب، حضرت حافظ و قاری خالد رضا خان صاحب، حضرت حافظ و قاری شمس تبریز مرکزی صاحب، حضرت حافظ حسام الدین اشرفی صاحب، عزیزِ قدر غلام مرسلین خان اشرفی صاحب، جناب محمد خورشید رضوی صاحب، عزیزم حافظ ندیم رضا صاحب اور دیگر معتقدین و محبین کی موجودگی نے اس استقبال کو مزید پُررونق اور دل آویز بنا دیا۔
یہ تمام محبتیں میرے لیے محض استقبال نہیں، بلکہ تعلق و اخلاص کی ایسی حسین یادیں ہیں جنھیں دل کی لوح پر ہمیشہ محفوظ رکھنا چاہوں گا۔
محفلِ فاتحہ خوانی و شال پوشی
اسی سلسلے میں قرأت اکیڈمی، دارالترجمہ و النشر میں ایک مختصر مگر پُروقار محفلِ فاتحہ خوانی و شال پوشی کا انعقاد عمل میں آیا، جس کی صدارت عطائے مفتیِ اعظم ہند، دعاۓ شہزادۀ اعلی حضرت، خلیفۂ بہار الہند، مجمعِ محاسن، ناصر العلماء، حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ محمد روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ سرپرست مدارس کثیرہ و ناظم تعلیمات دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ کولکاتا نے فرمائی۔
اس بابرکت محفل میں فقیہِ دینِ متین، خلیفۂ تاج الشریعہ، حضرت علامہ مفتی محمد افضل حسین مصباحی صاحب قبلہ؛ ماہرِ درسیات حضرت علامہ مفتی محمد قمر الدین مصباحی رضوی صاحب قبلہ، استاذ جامعہ عبد اللہ ابن مسعود، پنچنو گرام؛ پیکرِ خلوص و وفا حضرت علامہ مولانا محمد غلام ربانی فیضی صاحب، خطیب و امام غریب نواز مسجد؛ حضرت حافظ خالد رضا خان اشرفی صاحب ، نیز دیگر علمائے کرام اور عوامِ اہلِ سنت نے شرکت فرما کر اس محفل کی رونق اور وقار میں اضافہ فرمایا۔
میں تمام علمائے کرام، مشائخِ عظام، احباب و متعلقین اور شرکائے محفل کا تہِ دل سے ممنون و مشکور ہوں کہ انھوں نے اپنی گراں قدر مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس فقیر کو اپنی محبتوں، دعاؤں اور شفقتوں سے نوازا۔ بالخصوص حضرت علامہ مولانا الحاج محمد روشن ضمیر نوری صاحب قبلہ کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنی سرپرستی، محبت اور حسنِ انتظام سے اس محفل کو یادگار بنا دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ احباب کی محبتیں اور بزرگوں کی شفقتیں ایسی نعمتیں ہیں جن کا حق محض الفاظ کے ذریعے ادا نہیں کیا جا سکتا۔ میری یہ تحریر ان تمام مخلصین کے لیے سپاس گزاری کا ایک عاجزانہ اظہار ہے، جنھوں نے اپنے خلوص و محبت سے میرے سفر کو یادگار اور میری خوشیوں کو دوبالا کر دیا۔
اللہ تعالیٰ تمام حضرات کی محبتوں، خلوص، شفقتوں اور عنایات کو سلامت رکھے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انھیں دنیا و آخرت میں بہترین جزائے خیر سے نوازے۔ بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عاشقِ رسول ﷺ کو بار بار حرمین شریفین کی حاضری اور زیارت کی لازوال سعادت نصیب فرمائے، ان مقدس مقامات کی برکتوں سے مالا مال کرے اور ہم سب کو عشقِ رسول ﷺ پر استقامت عطا فرمائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ!
جزاکم اللہ خیراً
والسلام مع الاکرام
محمد وسیم خان اشرفی جالوی
دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ، کولکاتا