29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 | +91 9883724452 | info@qewt.in
Knowledge & Updates دین اور دنیا 9 min read

ویب سائٹ کی اہمیت اور ارباب ادارۀ شرعیہ پٹنہ بہار کو ہدیۂ تہنیت

م
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
By • 23 Oct, 2026
9 min read

ویب سائٹ کی اہمیت اور ارباب ادارۀ شرعیہ پٹنہ بہار کو ہدیۂ تہنیت


 الحمد لله على احسانه و كرمه و الصلاة والسلام على رسوله و نبيه و على آله و اصحابه !

اللہ رب العزت نے اس کائنات کو اپنی قدرتِ کاملہ، حکمتِ بالغہ اور صناعیِ بے مثال سے اس قدر حسن و جمال عطا فرمایا ہے کہ اس کی ہر شے خالقِ کائنات کی عظمت و کبریائی، وحدانیت و صمدیت اور قدرتِ بے پایاں کی مظہر نظر آتی ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔

(سورۃ المؤمنون: 14)

ترجمہ: پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔


کائنات کی ہر تخلیق اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی گواہی دیتی ہے، لیکن اس کارگاہِ ہستی میں انسان کو ایک ممتاز مقام و مرتبہ عطا کیا گیا ہے۔ اسے عقل و شعور، فکر و تدبر، قوتِ ارادی اور صلاحیتِ ایجاد سے نوازا گیا، تاکہ وہ کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے کے ساتھ اپنی زندگی کو بھی علم و تجربے کی روشنی میں بہتر سے بہتر بنا سکے۔ اسی امتیازی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا گیا:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ۔

(سورۃ الإسراء: 70)

ترجمہ: اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی۔


انسان کی امتیازی خصوصیات میں ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ وہ زمانے کے تقاضوں کو سمجھتا، حالات سے سیکھتا اور اپنے تجربات کی روشنی میں نئے امکانات کی تلاش کرتا ہے۔ اس نے اپنی فکری و عملی صلاحیتوں کے ذریعے زندگی کے مختلف شعبوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ ذرائعِ آمدورفت سے لے کر ذرائعِ ابلاغ تک، علوم و فنون سے لے کر جدید ٹیکنالوجی تک، ہر میدان میں اس کی جدت طرازی نے نئے افق روشن کیے ہیں۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ انسان دنیا کے ایک گوشے میں بیٹھ کر اپنی آواز دنیا کے دوسرے گوشوں تک پہنچا سکتا ہے، لمحوں میں معلومات حاصل کر سکتا ہے اور اپنے علم و تجربے سے دوسروں کو بھی مستفید کر سکتا ہے۔

جدید عہد کی اسی علمی و ابلاغی پیش رفت کا ایک اہم ثمرہ ویب سائٹ ہے، جو معلومات کی ترسیل، افکار کے اظہار، علمی رابطے اور دینی و سماجی پیغامات کی اشاعت کا مؤثر ذریعہ بن چکی ہے۔ آج ویب سائٹ محض معلومات کا ذخیرہ نہیں، بلکہ اپنے علمی و فکری تشخص کو متعارف کرانے، مستند معلومات تک رسائی آسان بنانے اور دنیا بھر کے لوگوں کو ایک مشترکہ علمی و فکری مرکز سے وابستہ کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔ بالخصوص دینی و علمی میدان میں اس کی افادیت دوچند ہو جاتی ہے، جہاں درست معلومات کی فراہمی اور فکری و اعتقادی رہنمائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

اسلام نے اجتماعیت، باہمی تعلق اور ایک دوسرے کے احوال سے باخبر رہنے کو بڑی اہمیت دی ہے۔ نمازِ باجماعت کی فضیلت بھی اسی اجتماعی نظام کی ایک روشن مثال ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً۔

ترجمہ: جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا، تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔

(صحیح البخاری، کتاب الأذان؛ صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة)

نمازِ باجماعت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے مسلمانوں میں اجتماعیت، باہمی تعارف، اخوت اور ایک دوسرے کی خبرگیری کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ یقیناً ویب سائٹ اور نمازِ باجماعت اپنی حقیقت، نوعیت اور شرعی حیثیت کے اعتبار سے دو مختلف چیزیں ہیں، تاہم ابلاغ و رابطے کے عمومی مفہوم میں دیکھا جائے تو ویب سائٹ بھی لوگوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے اور کسی مفید پیغام کو وسیع تر حلقۂ قارئین تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔


مستند فقہی ویب سائٹ: عہدِ حاضر کی اہم ضرورت

عصرِ حاضر میں انٹرنیٹ انسانی زندگی کا ایک ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ دینی معلومات، شرعی مسائل اور فقہی رہنمائی کے لیے بھی لوگ بڑی تعداد میں آن لائن ذرائع سے استفادہ کرتے ہیں۔ تاہم اس وسیع تر ابلاغی دنیا میں مستند اور غیر مستند معلومات، صحیح اور غلط تعبیرات، نیز معتبر علمی آرا اور غیر تحقیقی دعووں کے درمیان امتیاز کرنا ہر شخص کے لیے آسان نہیں۔ بالخصوص دینی و فقہی مسائل میں غیر مستند مواد کی اشاعت عام لوگوں کے لیے الجھن، غلط فہمی اور فکری انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔

اہلِ سنت و جماعت کے مستند علمی و فقہی ذخیرے کو جدید ذرائعِ ابلاغ کے ذریعے عام کرنا اسی لیے وقت کی اہم ضرورت ہے کہ عوام کو اپنے عقائد و معمولات اور روزمرہ زندگی سے متعلق شرعی مسائل میں قابلِ اعتماد رہنمائی میسر آسکے۔ ایک ایسی مستند سنی فقہی ویب سائٹ، جہاں اہلِ علم کی نگرانی میں مسائل کے جوابات پیش کیے جائیں، دلائل و حوالہ جات کا اہتمام ہو اور دینی رہنمائی ذمہ دارانہ انداز میں فراہم کی جائے، بلاشبہ علمی خدمت کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ انٹرنیٹ پر معلومات کی کثرت، علم کی صحت کی ضمانت نہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ پیش کردہ مواد معتبر علمی مصادر سے ماخوذ ہو، اس کی تحقیق و تصدیق کا اہتمام کیا جائے اور شرعی مسائل کے جوابات مستند اہلِ علم کی نگرانی میں شائع ہوں۔ ایسی کوشش نہ صرف دینی معلومات کی صحیح ترسیل میں معاون ہوگی، بلکہ نئی نسل کو مستند علمی رہنمائی سے وابستہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔


ادارۀ شرعیہ کی علمی و دینی کاوش

انہی دینی، علمی اور عصری تقاضوں کے پیشِ نظر ادارۀ شرعیہ پٹنہ بہار کے ارباب حل و عقد نے مورخہ 25 اکتوبر بروز اتوار، مٹیابرج کولکاتا میں منعقد ہونے والے کل ہند اجلاس کے موقع پر ،  ایک فقہی ویب سائٹ کے قیام کا عزمِ مصمم کیا ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ دینی خدمات کو زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدید ذرائعِ ابلاغ کو بھی اشاعتِ علم اور فروغِ دین کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔

اگر اس ویب سائٹ کو تحقیق و استناد، علمی دیانت، فقہی بصیرت اور اخلاص و للہیت کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ ان شاء اللہ ایک مؤثر علمی پلیٹ فارم بن سکتی ہے، جہاں لوگوں کو شرعی مسائل کے جوابات، دینی معلومات اور مستند علمی رہنمائی میسر آئے گی۔ اس طرح ایک ہی علمی کاوش کے ذریعے مختلف علاقوں اور ملکوں میں رہنے والے افراد تک دین کی صحیح جانکاری پہنچانے کی راہ ہموار ہوگی۔

دینی و علمی خدمات کی یہی وہ صورت ہے جس کے اثرات بسا اوقات انسان کی ظاہری زندگی سے آگے بڑھ کر اس کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے اعمال کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ»۔

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان وفات پا جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

(صحیح مسلم، کتاب الوصیۃ، حدیث: 1631)

اس حدیثِ مبارک کی روشنی میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اگر کسی علمی و دینی ویب سائٹ کے ذریعے لوگوں کو مستند علم حاصل ہو، وہ اپنے شرعی مسائل کا درست حل پائیں اور اس علم سے مسلسل استفادہ کرتے رہیں تو یہ خدمت اس کے بانی اور معاونین کے لیے اجر و ثواب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ البتہ اس کی قبولیت اور اجر کا حقیقی فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشادِ گرامی ہے:

«مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»۔

ترجمہ: جس شخص نے اسلام میں کسی اچھے طریقے کی ابتدا کی، پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا، تو اس کے لیے ان تمام لوگوں کے اجر کے برابر اجر لکھا جائے گا جو اس پر عمل کریں گے، اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اور جس شخص نے اسلام میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی، پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا، تو اس پر ان تمام لوگوں کے گناہ کے برابر گناہ ہوگا جو اس پر عمل کریں گے، اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث: 1017)

ان احادیثِ مبارکہ سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ نفع بخش علم کی اشاعت اور خیر کے کاموں کی ترویج انسان کے لیے عظیم اجر و ثواب ہے۔ چنانچہ اگر اس فقہی ویب سائٹ کے ذریعے مستند دینی علم عام ہو، لوگوں کی علمی و شرعی الجھنیں دور ہوں اور صحیح رہنمائی کا ایک مسلسل سلسلہ قائم ہو تو یہ کاوش ان شاء اللہ بانیان و معاونین کے لیے باعثِ خیر و برکت ثابت ہو سکتی ہے۔


ہدیۂ تبریک و دعائے خیر

اسی جذبۂ خیر اور دینی خدمت کے اعتراف میں یہ فقیرِ اشرفی، نیز دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ کے اراکین، ادارہ شرعیہ کے روح رواں، ان کے رفقا و معاونین، اور امّ البلاد، شہرِ نشاط کولکاتا میں تشریف لانے والے دیگر قاضیانِ اسلام ، مفتیانِ عظام، علماء کرام اور دانشوران قوم و ملت کی خدمت میں ہدیۂ تبریک و تحسین پیش کرتے ہیں۔

یہ کاوش محض ایک ویب سائٹ کے قیام کا نام نہیں، بلکہ دینی رہنمائی کو جدید ذرائعِ ابلاغ کے ذریعے عام کرنے، مستند فقہی معلومات کو محفوظ و منظم انداز میں پیش کرنے اور علمِ دین سے استفادے کے امکانات کو وسیع تر بنانے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہے۔ اس کی حقیقی کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ یہاں شائع ہونے والا مواد تحقیق و استناد کے معیار پر پورا اترے، علمی ذمہ داری کا پاس دار ہو اور عوام کے لیے دینی رہنمائی کا قابلِ اعتماد وسیلہ بنے۔


اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اس نیک ارادے کو شرفِ تکمیل عطا فرمائے، اس ویب سائٹ کو دین و سنیت کی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنائے، اسے ہر قسم کی آفات و فتن سے محفوظ رکھے اور اس علمی و دینی مشن سے وابستہ جملہ افراد کی محنتوں کو شرفِ قبولیت بخشے۔


اللہ تعالیٰ اس کاوش کو علمِ نافع کی اشاعت، صحیح عقائد کی تفہیم، فقہی رہنمائی کی فراہمی اور ملتِ اسلامیہ کی علمی و دینی ضرورتوں کی تکمیل کا سبب بنائے، اور اس کے فیوض و برکات کو روز افزوں فرمائے۔


آمین بجاہِ سید الکونین ﷺ و آلہٖ و اولادہٖ، علیہم التحیۃ والتسلیم۔


از محمد وسیم خان اشرفی جالوی

خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلیٰ دار العلوم اشرفیہ قطبیہ ، قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا

چیرمین قطبیہ ایجوکیشنل ویلفیر ٹرسٹ مغربی بنگال 

www.qewt.in

Share This Article
Spread beneficial knowledge with friends & community

Latest Articles & Trust News

اظہارِ تشکر و امتنان
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ کولکا 11 Oct, 2026
شہِ کون و مکاں ہے ، تاجدار جن و انساں ہے
مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ 30 Sep, 2026
دکھا مجھ کو کعبہ ، طفیلِ نبی از طفیلِ صحابہ
مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ 30 Sep, 2026
فضائل غوث اعظم رضی اللہ عنہ (دوسری قسط )
مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ 20 Sep, 2026
Browse All Articles
Link copied to clipboard!
WhatsApp