سیرتِ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا
طیبہ طاہرہ،سیدہ زاہرہ حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا، دخترِ رسول، جگرگوشۂ مصطفیٰ، خاتونِ جنت اور نساءِ عالم کی سردار ہیں۔ آپ کی سیرتِ طیبہ اسلام میں عورت کے کردار، عفت و طہارت، صبر و رضا، عبادت و زہد اور گھریلو و معاشرتی ذمہ داریوں کی کامل تصویر پیش کرتی ہے۔
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت نبی کریم ﷺ اور حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی صاحبزادی ہیں۔ آپ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ نے نبوی گھرانے کی پاکیزہ فضا میں تربیت پائی اور والدِ گرامی ﷺ کی شفقت و محبت کا خصوصی فیضان حاصل کیا۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عبادت و ریاضت میں بے مثال تھیں۔ شب بیداری، طویل سجدے، کثرتِ دعا اور اخلاصِ کامل آپ کی پہچان تھی۔ آپ اپنی دعاؤں میں پہلے امتِ مسلمہ اور پڑوسیوں کو یاد فرماتیں، پھر اپنے لیے دعا کرتیں،یہ ایثارِ ایمانی کی اعلیٰ مثال ہے۔
نکاح و گھریلو زندگی
آپ کا نکاح نبی کریم ﷺ نے امیرالمؤمنین حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے کیا۔ گھر میں فقر و تنگی کے باوجود صبر و شکر، محنت و قناعت اور شوہر کی دلجوئی آپ کے کردار کا روشن پہلو ہے۔ چکی پیستے ہاتھوں پر چھالے پڑ جانا، مگر شکایت کے بجائے اللہ پر توکل،یہی فاطمی سیرت ہے۔
عفت، حیا، سادگی، سخاوت اور تواضع یہ سب اوصاف سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زندگی میں درخشاں ہیں۔ مسکینوں اور یتیموں کی مدد، اپنی ضرورت پر دوسروں کو ترجیح دینا، اور ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا آپ کی سیرت کا جوہر ہے۔
نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد آپ پر شدید رنج و الم کے ایام آئے۔آپ ﷺ کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ کثرت کے ساتھ گریہ و زاری آپ کی زندگی کا معمول بن گیا۔پھر بشارت نبوی کے مطابق آقا علیہ السلام کے وصال کے چھ ماہ بعد 3/رمضان المبارک 11ہجری میں آپ نے دنیا سے پردہ فرمایا۔ آپ کا وصال امت کے لیے عظیم صدمہ تھا، مگر آپ کی سیرت آج بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
رسول اللہ ﷺکی چا ربیٹیاں تھیں،سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سب سے چھوٹی تھیں۔رسول اکرم ﷺ کو ان سے خاص محبت تھی۔اسی لیے فرمایا کہ فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہونگی۔،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔حضرت سیدہ فاطمہ رسول اکرم ﷺ سے بہت مشابہت رکھتی تھیں،چال ڈھال اور نشست وبرخاست میں ہوبہو اپنے والد حضرت محمد مصطفیٰﷺکی تصویر تھیں۔
ان کی زندگی میں خواتین اسلام کے لیے بڑا درس موجود ہے آٖج جبکہ امت کی بیٹیاں تہذیب کفر کی نقل میں اپنی ناموس وعزت سے بے خبر ہورہی ہیں انہیں سیرت فاطمہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک آئیڈیل خاتون اسلام کی زندگی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکیں۔ایک مسلمان خاتون کے لیے سیرت فاطمۃ الزہرا میں اس کی زندگی کے تمام مراحل بچپن، جوانی، شادی، شوہر، خادنہ داری، عبادت، پرورش اولاد، خدمت اور اعزا اقربا سے محبت غرض ہر مرحلہ حیات کے لیے قابل تقلید نمونہ موجود ہے۔
محمد رفیق الاسلام رضوی مصباحی ڈائریکٹر "مرکز"مٹیابرج کلکتہ
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.