29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ، کولکاتا میں جشنِ آزادی

this is img
دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ، کولکاتا Post Date: 2026-08-15

آزادی، حب الوطنی اور مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کی یاد

دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ، کولکاتا میں جشنِ آزادی


آزادی، حب الوطنی اور مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کی یاد


از: محمد وسیم خاں اشرفی جالوی

چیئرمین، قطبیہ ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ، کولکاتا


سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا


15 اگست ہندوستان کی تاریخ کا وہ روشن اور یادگار دن ہے جو ہر سال آتے ہی ہمارے دلوں میں آزادی کی قدر، وطن سے محبت اور قومی یکجہتی کے جذبات کو تازہ کر دیتا ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں، بلکہ ان بے شمار جان نثاروں، مجاہدینِ آزادی اور شہدائے وطن کی قربانیوں کو سلام پیش کرنے کا دن بھی ہے جنھوں نے غلامی کی تاریکی میں آزادی کی شمع روشن رکھنے کے لیے اپنی زندگیاں نذر کردیں۔


برطانوی اقتدار کے خلاف ہندوستانی عوام کی مزاحمت کوئی مختصر یا یک روزہ داستان نہیں تھی۔ مختلف علاقوں، طبقات اور جماعتوں میں مزاحمت کے سلسلے طویل عرصے تک جاری رہے۔ بالآخر یہ مسلسل جدوجہد 15 اگست 1947ء کو اس تاریخی منزل تک پہنچی جب ہندوستان نے برطانوی اقتدار سے آزادی حاصل کی۔


آزادی دراصل انسان کی فطری خواہش اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ دنیا کی ہر مخلوق آزادی کی طلب رکھتی ہے۔ ایک پرندہ بھی قفس کی تنگی میں خوش نہیں رہ سکتا؛ پھر انسان، جسے اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا شرف عطا فرمایا ہے، ظلم، جبر اور غلامی کی زندگی کو کیسے پسند کرسکتا ہے؟


اسلام نے انسانی حریت، عزت اور اختیار کو بنیادی اہمیت عطا کی ہے۔ قرآنِ کریم کا واضح فرمان ہے:


لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ


ترجمہ: دین میں کوئی زبردستی نہیں۔

(سورۃ البقرہ: 256)


اسی طرح ارشادِ ربانی ہے:


وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ


ترجمہ: اور اگر تمھارا رب چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ ہیں سب کے سب ایمان لے آتے، تو کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے یہاں تک کہ وہ مؤمن ہوجائیں؟

(سورۃ یونس: 99)


قرآنِ کریم ظلم و استبداد سے نجات کو بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو فرعون کے ظلم سے نجات ملنے پر اللہ تعالیٰ کی نعمت یاد دلاتے ہوئے فرمایا:


وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠۔


ترجمہ: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو، جب اس نے تمھیں فرعون والوں سے نجات دی، جو تمہیں بری سزا دیتے تھے۔

(سورۃ ابراہیم: 6)


یہی تصورِ حریت ہمیں ہندوستان کی تاریخ میں بھی جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ یہاں آزادی کے لیے اٹھنے والی آوازیں کبھی تلوار بنیں، کبھی قلم، کبھی دعا، کبھی تحریک اور کبھی بے خوف قربانی کی صورت اختیار کرتی رہیں۔


دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ میں جشنِ آزادی


اسی جذبۂ حب الوطنی، قومی یکجہتی اور وطن سے محبت کے تحت دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ، کولکاتا میں جشنِ آزادی کی ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی۔ صبح 9 بج کر 30 منٹ پر دارالعلوم کے اساتذۂ کرام، طلبۂ عظام، قطبیہ ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کے اراکین اور مسجدِ محبوب رحمانی کے مصلیان کی موجودگی میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ پرچم کشائی کی گئی۔


پرچم جب فضائے وطن میں لہرانے لگا تو گویا اس کے ساتھ ہماری تاریخ کے وہ تمام اوراق بھی نگاہوں کے سامنے آ گئے جن پر قربانی، عزم، حوصلے اور استقامت کی داستانیں رقم ہیں۔ اس موقع پر مجاہدینِ آزادی اور شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور تحریکِ آزادی کی تاریخ، علما و مشائخ اور مختلف طبقات کے کردار اور قومی اتحاد و یکجہتی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔


اس تقریب کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ ہندوستان کی آزادی کسی ایک قوم، مذہب، زبان یا طبقے کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں؛ بلکہ یہ ایک ایسی مشترکہ قربانی کا ثمر ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں، مذاہب، تہذیبوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے اپنے حصے کی قربانی پیش کی۔


1857ء: آزادی کی جدوجہد کا فیصلہ کن باب


اگر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو غیر ملکی اقتدار کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ تقریباً دو صدیوں پر محیط دکھائی دیتا ہے۔ البتہ 1857ء سے 1947ء تک کا نوّے سالہ دور اس جدوجہد کا ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔


1857ء ہندوستان کی تاریخ میں ایک عظیم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دہلی، لکھنؤ، کانپور، جھانسی، بریلی اور متعدد دوسرے علاقوں میں برطانوی اقتدار کے خلاف شدید مزاحمت ہوئی۔ دہلی اس تحریک کا ایک اہم مرکز بنا اور مغلیہ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو علامتی قیادت کا مرکز تسلیم کیا گیا۔


اس تحریک میں سپاہیوں کے ساتھ علما، عوام، مقامی حکمرانوں اور مختلف طبقات کے افراد نے بھی اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔ 1857ء کی بغاوت اگرچہ اپنے فوری سیاسی مقصد میں کامیاب نہ ہوسکی، لیکن اس نے ہندوستان کے دل میں آزادی کی جو چنگاری روشن کی، وہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی رہی۔


علامہ فضلِ حق خیرآبادی اور علما کا کردار


1857ء کی جدوجہد میں علامہ فضلِ حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ کا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ جلیل القدر عالم، فلسفی، دانشور اور صاحبِ قلم شخصیت تھے۔ 1857ء کے ہنگامہ خیز دور میں دہلی پہنچے اور بہادر شاہ ظفر سے ملاقات و مشاورت میں شریک ہوئے۔


روایات کے مطابق انھوں نے علما کے ایک اجتماع میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کے حق میں فتویٰ پیش کیا، جس پر متعدد علمانے دستخط کیے۔ بعد ازاں انھیں گرفتار کرکے جزائرِ انڈمان بھیج دیا گیا، جہاں انھوں نے قید و جلاوطنی کی سختیاں برداشت کیں اور وہیں وفات پائی۔


علامہ فضلِ حق خیرآبادی کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں علما نے صرف میدانِ عمل ہی میں نہیں بلکہ علم، فکر، قلم اور فتویٰ کے ذریعے بھی اپنا کردار ادا کیا۔


اسی سلسلے میں مفتی صدرالدین آزردہ، مفتی سید کفایت علی کافی، علامہ عنایت احمد کاکوروی اور دیگر علما و مجاہدین کے نام بھی تاریخ کے صفحات پر نمایاں ہیں۔ ان شخصیات نے اپنے اپنے عہد میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی اور قید، جلاوطنی اور جان کی قربانی جیسی سخت آزمائشوں کا سامنا کیا۔


مسلمانوں اور مدارسِ اسلامیہ کی قربانیاں


تحریکِ آزادی کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے متعدد علما، طلبہ، دانشور، سیاسی رہنما اور عام شہری مختلف ادوار میں برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد میں شریک رہے۔


1857ء کے بعد بھی آزادی کی تحریک نے مختلف صورتیں اختیار کیں۔ دینی مدارس اور علما سے وابستہ بہت سی شخصیات نے سیاسی بیداری، اصلاحِ معاشرہ اور آزادی کے شعور کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بعد کے ادوار میں خلافت تحریک، عدمِ تعاون تحریک، سول نافرمانی اور نمک ستیہ گرہ جیسی تحریکوں میں بھی ہندوستانیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور ہزاروں افراد نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔


آزادی کی تحریک کے دوران مختلف طبقات کی گرفتاریوں، شہادتوں اور قربانیوں کے بارے میں تاریخی کتابوں اور روایات میں مختلف اعداد و شمار ملتے ہیں۔ ان اعداد کی صحت اور نسبت ہر ماخذ میں یکساں نہیں، اس لیے ان کے بارے میں قطعی دعویٰ کرنے کے بجائے یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ مسلمانوں اور بالخصوص علما و دینی طبقے کے ایک نمایاں حصّے نے آزادی کی جدوجہد میں بڑی تعداد میں گرفتاریوں، قید و بند اور جان و مال کی قربانیوں کا سامنا کیا۔


برطانوی اقتدار کی طرف سے علما اور آزادی پسندوں پر ہونے والے مظالم کی شدت کا اندازہ بعض معاصر بیانات اور تاریخی روایات سے بھی ہوتا ہے۔ ایک انگریز افسر سے منسوب یہ بیان تاریخ میں نقل کیا جاتا ہے کہ دہلی سے پشاور تک گرینڈ ٹرنک روڈ کے دونوں جانب شاید ہی کوئی ایسا درخت ہو جس پر کسی عالمِ دین کو پھانسی نہ دی گئی ہو۔ اگرچہ ایسے بیانات کے حوالہ جات کی تحقیق ضروری ہے، تاہم اس سے اس دور کے جبر و استبداد کی ایک عمومی تصویر ضرور سامنے آتی ہے۔


مگر ظلم کی یہ آندھیاں اہلِ حق کے عزم کو متزلزل نہ کرسکیں۔ ان کے سینوں میں دین کی حرارت بھی تھی اور وطن کی محبت بھی۔ وطن سے وفاداری اور انسانوں کے ساتھ خیر خواہی ہمارے مذہبی و اخلاقی شعور کا حصہ ہے۔ حضور نبی اکرم  کی سیرتِ طیبہ ہمیں اپنے وطن، اپنے معاشرے اور اپنے ہم وطنوں کے ساتھ حسنِ سلوک، وفاداری اور خیر خواہی کا درس دیتی ہے۔


اشفاق اللہ خاں: قربانی کی روشن مثال


آزادی کی تاریخ میں اشفاق اللہ خاں کا نام بھی بڑی عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ کاکوری مقدمے کے بعد انھیں برطانوی حکومت نے سزائے موت سنائی اور 19 دسمبر 1927ء کو فیض آباد جیل میں تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا۔


اشفاق اللہ خاں کی زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آزادی کا خواب صرف عمر رسیدہ سیاست دانوں یا بڑے قائدین نے نہیں دیکھا تھا؛ ہندوستان کے نوجوانوں کے دل بھی اس خواب سے روشن تھے۔ انھوں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے آزادی کے مقصد کے لیے خود کو وقف کردیا۔


ان کی قربانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ قوموں کی آزادی محض سیاسی فیصلوں سے نہیں ملتی؛ اس کے پیچھے نسلوں کی دعائیں، نوجوانوں کے خواب، ماؤں کے آنسو اور بے شمار انسانوں کی قربانیاں ہوتی ہیں۔


آزادی کسی ایک قوم کی میراث نہیں


یہ حقیقت ہمیشہ ہمارے سامنے رہنی چاہیے کہ ہندوستان کی آزادی کسی ایک مذہب، قوم یا طبقے کی میراث نہیں۔ اس عظیم جدوجہد میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حصّہ لیا۔


ہندوستان کی مٹی میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والوں کا خون شامل ہے۔ اسی مشترکہ قربانی نے اس ملک کی آزادی کی بنیاد مضبوط کی۔


شاعرِ عوام راحت اندوری نے اسی احساس کو اپنے معروف شعر میں یوں بیان کیا ہے:


سبھی کا خون شامل ہے یہاں کی مٹی میں

کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے


یہ شعر صرف شعری اظہار نہیں بلکہ ہندوستانی معاشرے کی کثرت میں وحدت کی ایک مؤثر ترجمانی بھی ہے۔ ہندوستان ان تمام لوگوں کا مشترکہ وطن ہے جو اس کی مٹی سے وابستہ ہیں، اس کی تعمیر میں اپنا حصّہ ادا کرتے ہیں اور اس کے مستقبل کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔


وطن سے محبت اور اسلام


وطن سے محبت انسان کی فطرت میں ودیعت ہے۔ جس سرزمین پر انسان آنکھ کھولتا ہے، جس کی فضا میں سانس لیتا ہے، جس کی گلیوں میں بچپن گزارتا ہے اور جہاں اس کی یادوں کے چراغ روشن ہوتے ہیں، اس سرزمین سے قلبی تعلق ایک فطری جذبہ ہے۔


اسلام امن، عدل، وفاداری، رواداری، حسنِ معاشرت اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے۔ اس لیے وطن سے محبت کا بہترین مظاہرہ محض جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ کردار اور عمل میں ہونا چاہیے۔


اپنے وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے امن کے محافظ بنیں، قانون کی پاس داری کریں، اپنے ہم وطنوں کے حقوق کا احترام کریں، کمزوروں کی مدد کریں، نفرتوں کو کم کریں اور معاشرے میں محبت، اخوت اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔


وطن سے وفاداری صرف پرچم لہرانے کا نام نہیں؛ یہ اس وقت حقیقت بنتی ہے جب انسان اپنے وطن کے لیے ایمانداری سے اپنا فرض ادا کرتا ہے۔


آزادی کا حقیقی پیغام


آزادی کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ ایک ملک غیر ملکی اقتدار سے نجات حاصل کرلے۔ آزادی کا حقیقی حسن اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب معاشرے میں انسان کو عزت، انصاف، مساوات، امن اور بنیادی حقوق میسر ہوں۔


آزادی کے 80 برس مکمل ہونے کے بعد ہماری ذمہ داریاں کم نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو آزادی کی تاریخ، مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں اور ملک کی تہذیبی و سماجی روایات سے روشناس کرانا ہوگا۔


مدارس، مکاتب، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو ایسی تعلیم و تربیت کا مرکز بنانا ہوگا جہاں علم کے ساتھ اخلاق، حب الوطنی کے ساتھ انسانیت، مذہبی شعور کے ساتھ رواداری اور حقوق کے ساتھ فرائض کا احساس بھی پیدا ہو۔


ہمیں آزادی کو محض ایک سالانہ تقریب، پرچم کشائی، تقریری مقابلے یا قومی نغموں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ آزادی کی اصل روح ہماری روزمرہ زندگی کے کردار میں جلوہ گر ہونی چاہیے۔


نفرت کے مقابلے میں محبت، تعصب کے مقابلے میں رواداری، انتشار کے مقابلے میں اتحاد، ظلم کے مقابلے میں عدل اور خود غرضی کے مقابلے میں خدمت کا راستہ اختیار کرنا ہی آزادی کے جشن کو حقیقی معنویت عطا کرتا ہے۔


ملے گی منزلِ مقصود، یہ ایمان رکھتے ہیں

ہم اپنی رہنمائی کے لیے قرآن رکھتے ہیں

وفاداریِ وطن سے ہو، یہی اسلام کہتا ہے

ہم اپنے دل کے ہر گوشے میں ہندوستان رکھتے ہیں


ہماری مشترکہ ذمہ داری


ہندوستان کی اصل طاقت اس کے تنوع میں ہے۔ یہاں مختلف زبانیں ہیں، مختلف لباس ہیں، مختلف تہذیبیں ہیں، مختلف مذاہب ہیں اور زندگی گزارنے کے مختلف انداز ہیں؛ مگر ان سب کے باوجود ایک مشترکہ ہندوستانی شناخت ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔


یہی تنوع ہندوستان کو خوب صورت بناتا ہے اور یہی ہماری اجتماعی قوت بھی ہے۔


لہٰذا جشنِ آزادی صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے ایک عہد کا دن بھی ہے۔


ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ اپنے وطن کی سلامتی، ترقی اور خوش حالی کے لیے پوری دیانت داری سے اپنا کردار ادا کریں گے، اپنے ہم وطنوں کے حقوق کا احترام کریں گے؛ نفرت، تعصب اور فرقہ واریت سے خود بھی بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں گے؛ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُرامن، متحد، مضبوط، خوش حال اور باوقار ہندوستان کی تعمیر میں اپنا حصّہ ادا کریں گے۔


آج ہمیں یہ سوچنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارے بزرگوں نے جس آزادی کے لیے قربانیاں دیں، ہم اس آزادی کی حفاظت کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ اگر آزادی ہمیں ذمہ دار شہری، بہتر انسان، مخلص مسلمان اور اپنے وطن کا وفادار فرد نہیں بناتی تو پھر جشنِ آزادی کی رسومات اپنی حقیقی روح سے محروم رہ جاتی ہیں۔


آزادی کا سب سے خوب صورت جشن یہی ہے کہ ہمارے دلوں میں وطن کے لیے خیر خواہی ہو، ہماری زبان پر محبت ہو، ہمارے ہاتھ خدمت کے لیے اٹھیں، ہمارے قلم سچائی کے لیے چلیں اور ہمارا کردار اس ملک کے امن و استحکام کا ذریعہ بنے۔


دعا


آخر میں بارگاہِ رب العزت میں دستِ دعا دراز ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن ہندوستان کو ہر قسم کے شر، فتنہ و فساد، ظلم و زیادتی، نفرت و تعصب اور بدامنی سے محفوظ فرمائے۔


اے پروردگار! اس ملک کو امن و سلامتی، اتحاد و اخوت، ترقی و خوش حالی اور باہمی محبت کا گہوارہ بنا۔


تمام شہریوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے احترام، خیر خواہی اور انسانیت کا جذبہ پیدا فرما۔ ہمارے درمیان نفرتوں کی دیواریں گرا کر محبت کے چراغ روشن فرما۔


یا اللہ! ہمیں اپنے وطن کی آزادی کی قدر کرنے، اس کی تاریخ کو سمجھنے، مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو یاد رکھنے، اپنے فرائض کو پہچاننے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں مثبت، تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔


ہمارے مدارس، مکاتب، اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو علم و اخلاق، امن و محبت اور انسانیت و خدمت کے مراکز بنا۔


ہماری نئی نسل کو علم کی روشنی، کردار کی پختگی، وطن سے محبت اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ عطا فرما۔


ہندوستان کو امن کا گہوارہ، اتحاد کا مظہر اور ترقی و خوش حالی کا مرکز بنا۔


آمین یا رب العالمین۔

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A