نبذة من حياة نبينا الكريم عليهم التحية و التسليم ( دوسری قسط )
متى تَزَوَّجَ نَبِيُّنَا ؟
ہمارے نبی ﷺ نے کب نکاح فرمایا؟
ج : لَمَّا بَلَغَ عُمُرُ نَبِيِّنَا خَمْساً وَّ عِشْرِيْنَ سَنَةً فَتَزَوَّجَ بِالسَّيِّدَةِ خَدِيْجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ الله عَنْها وَهِيَ امُّ الْمُؤْمِنِينَ .
جب ہمارے نبی ﷺ کی عمر ۲۵ سال کی ہوئی تو حضرت سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے نکاح کی اور وہ تمام مسلمانوں کی ماں ہے۔
ج : {فِيْ خمسٍ و عِشْرِیْنَ سنةٍ}
(پچیس سال کی عمر میں)
س : مَتَى نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى نَبِيِّنَا أَوَّلاً وَّ بِأَيِّ مَكَانٍ ؟
ہمارے نبی ﷺ پر پہلی وحی کب نازل ہوئی اور کس جگہ پر؟
ج : نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى نَبِيِّنَا أَوَّلاً فِيْ غَارِ حِرَاءٍ وَ عُمْرُهُ أَرْبَعُوْنَ عَاماً۔
ہمارے نبی ﷺ پر پہلی وحی غار حراء میں نازل ہوئی اور آپ ﷺ کی عمر چالیس سال تھی۔
س : كَمْ سَنَةٍ سَكَنَ نَبِيُّنَا فِيْ مَكَّةَ وَ إِلَى أَيْنَ هَاجَرَ؟
نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں کتنے سال رہے اور کہاں ہجرت کیے؟
ج : قَامَ نَبِيُّنَا فِيْ مَكَّةَ إِلَى ثَلْثٍ وَّ خَمْسِيْنَ سَنَةً ثُمَّ هَاجَرَ مَعَ أَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِيْنَةِ الْمُنَوَّرَةِ الشَّرِيْفَةِ.
ہمارے نبی ﷺ ۵۳ سال مکہ مکرمہ میں رہے پھر اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔
س : بِأَيِّ عَامٍ ؟
کس سال؟
ج : فِيْ سَنَةِ اثْنَيْنِ وَ عِشْرِيْنَ سِتَّ مِائَةٍ مِنَ الْمِيْلَادِ .
چھ سو بائیس عیسوی میں (۶۲۲)
س: هل يُشترط طهارة القلب للاحتفال بالمولد النبوي الشريف؟
کیا محفل میلاد پاک منانے کے لیے دل کا پاک ہونا ضروری ہے؟
ج: نعم ، لان الاحتفال بالمولد الشریف لا یحتاج الی حدیث صحیح بل یحتاج الی قلب صحیح۔
ہاں، اس لیے کہ میلاد النبی ﷺ منانے کے لیے کسی صحیح حدیث کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک صحیح (سلامت اور پاک) دل کی ضرورت ہے۔
س: ماذا نلنا بالمولد النبي الکریم ﷺ؟
ہمیں میلاد پاک سے کیا ملا؟
ج: نلنا کل شیء ببرکة مولدہ و بل وجود الکونین من برکات مولد المصطفے ۔ جاء فی الحدیث ۔ عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: أوحى الله إلى عيسى عليه السلام يا عيسى آمن بمحمد وأمر من أدركه من أمتك أن يؤمنوا به فلولا محمد ما خلقت آدم ولولا محمد ما خلقت الجنة ولا النار۔[ مستدرک حاکم ، ج 2 ، ص 6]
ہمیں ہر چیز میلاد مصطفے ﷺ کی بدولت ملی ہے بلکہ دونوں جہاں کا وجود ان کی میلاد کا صدقہ ہے۔جیساکہ مستدرک میں ہے : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں کہ: اللہ تبارک وتعالی نے حضرت عیسیٰ علی نبیناو علیہ الصلوۃ و السلام کی طرف وحی فرمائی کہ: اے عیسیٰ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لاؤ اور تمہاری امت میں سے جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پائے اسے حکم دو کہ وہ بھی ان پر ایمان لائےکہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ ہوتے تو میں آدم کو پیدا نہ کرتا اور اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ ہوتے تو میں جنت و دوزخ کو نہ بناتا۔
و في المنھاج المعراج للشيخ عبد المجيد المغربي الطرابلسي۔ "اعتاد الناس الاحتفال لاستماع قصة مولده الشريف عليه الصلاة والسلام ولَنِعمَتِ الذكرى بمولد النبي العظيم الذي أخرج الله الخلقَ بهديه من الظلمات إلى النور. “
شیخ عبد المجید منھاج المعراج میں رقم طراز ہیں:
لوگ حضور نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا تذکرہ سننے کے لیے جشن منانے کے عادی ہیں، اور یہ کتنی بابرکت یاد ہے اس عظیم نبی کے مولد کی، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو ہدایت کے ذریعے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف نکالا۔
س : هل أجاز أحد من العلماء السابقين للاحتفال بالمولد النبي ﷺ؟
کیا علماے سابقین میں سے کسی نے محفل میلاد پاک کو جائز کہاہے / اجازت دی؟
ج: نعم أجاز له كثير من العلماء و المحدثين و الفقهاء، منهم: قال الامام القسطلاني احد شراح صحيح البخاري ت (923ھـ): "ولا زال أهل الإسلام يحتفلون بشهر مولده عليه السلام، ويعملون الولائم، ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات، ويظهرون السرور، ويزيدون في المبرات، ويعتنون بقراءة مولده الكريم، ويظهر عليهم من بركاته كل فضل عميم. ومما جرب من خواصه أنه أمان في ذلك العام، وبشرى عاجلة بنيل البغية والمرام، فرحم الله امرءا اتخذ ليالي شهر مولده المبارك أعيادا، ليكون أشد علة على من في قلبه مرض وإعياء داء".المواهب اللدنية بالمنح المحمدية (ج1 / 78)
جی کثیر علما، محدثین اور فقہا نے جائز کیا ہے جن میں سے ،شارح بخاری امام قسطلانی نے کہا: "اہلِ اسلام ہمیشہ سے نبی کریم ﷺ کی ولادت کے مہینے میں جشن مناتے چلے آئے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں، اس کی راتوں میں طرح طرح کے صدقات دیتے ہیں، خوشی کا اظہار کرتے ہیں، نیکی کے کاموں میں اضافہ کرتے ہیں، میلادِ کریم کے ذکر اور پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں، اور ان پر اس کی برکتیں عام فضل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ اور اس کے تجربہ شدہ خواص میں سے یہ ہے کہ اس سال میں امن کا ضامن اور مراد و مقصود کے حصول کی جلد خوشخبری ہے، تو اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اس شخص پر جس نے میلادِ مبارک کے مہینے کی راتوں کو عید کی طرح خوشی کا دن بنا لیا، تاکہ یہ اس شخص پر سخت چوٹ ہو جس کے دل میں (نفاق یا بغض کا) مرض ہے۔"
قال الامام جلال الدین السیوطي رحمة الله علیه : إن أصل عمل المولد الذي هو اجتماع الناس وقراءة ما تيسر من القرءان ورواية الأخبار الواردة في مبدإ أمر النبي صلى الله عليه وسلم وما وقع في مولده من الآيات ثم يمدّ لهم سماطٌ يأكلونه وينصرفون من غير زيادة على ذلك هو من البدع الحسنة التي يُثـاب عليها صاحبها لما فيه من تعظيم قدر النبي صلى الله عليه وسلم وإظهار الفرح والاستبشار بمولده صلى الله عليه وسلم الشريف. “
امام جلال الدین سیوطی نے کہا: "میرے نزدیک میلاد النبی ﷺ منانے کی اصل بنیاد—یعنی لوگوں کا باہم جمع ہونا، قرآن کریم میں سے جتنا میسر ہو اس کی تلاوت کرنا، نبی کریم ﷺ کے آغازِ احوال اور آپ ﷺ کی ولادت کے وقت رونما ہونے والے معجزات و علامات کی روایات کا بیان کرنا، پھر لوگوں کے لیے دسترخوان بچھانا جس سے وہ کھانا کھائیں اور بغیر کسی اضافی (خلافِ شرع) عمل کے واپس چلے جائیں—یہ ان بدعاتِ حسنہ (اچھے اور مستحسن امور) میں سے ہے جن پر عمل کرنے والے کو ثواب دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس عمل کے اندر نبی کریم ﷺ کے مقام و مرتبے کی تعظیم اور آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر خوشی و مسرت کا اظہار پایا جاتا ہے۔"
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.