29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

خانقاہ کی اہمیت و افادیت

مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی، ناظم اعلی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ Post Date: 2026-09-09

خانقاہ کی اہمیت و افادیت

خانقاہ کی اہمیت وافادیت

ہر چیز کی کوئی نہ کوئی علامت ہوتی ہے۔ علامت سے مراد ایسی چیز ہے جو کسی دوسری چیز کی حقیقت یا خیال کی طرف ذہن کو متوجہ کرے۔ مثلاً سورج کا نکلنا دن کی نشاندہی ہے، تو ویسے ہی چاند کا نکلنا شب کی طرف رہنمائی کرتا ہے، بادلوں کا گرجنا بارش ہونے کی علامت ہے، وغیرہ۔

بلا تشبیہ و تمثیل کسی بستی میں مساجد، مدارس و خانقاہوں وغیرہ کی موجودگی اور ان کی آبادی، یعنی نماز و روزہ، قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں، تشنگانِ علومِ نبویہ کی چہل پہل اور ذکر و اذکار کی محفلوں کا سجنا، اس بستی میں مسلمانوں کے موجود ہونے کی علامت ہے۔ لیکن مذکورہ دونوں علامات سے کسی علاقے میں عاشق و فاسق، شیعہ و سنی، خوش عقیدہ و بدعقیدہ، خارجی و ناصبی، بزرگوں کا وفادار یا غیر وفادار ہونے کی پہچان، بغیر کسی سے دریافت کیے، ممکن نہیں۔

ہاں! جس علامت سے عاشقِ رسول علیہ وآلہ وسلم و آلِ رسول ﷺ اور سنی صحیح العقیدہ کی شناخت ہوتی ہے، اسے خانقاہ کہا جاتا ہے۔ یعنی جس آبادی میں بزرگوں کی خانقاہ آباد ہو، وہاں بغیر کسی سے دریافت کیے آپ کواحساس ہو گا کہ اس بستی میں بزرگوں کے وفادار  ہیں۔

مساجد و مدارس کی فضیلت اپنی جگہ اٹل ہے، قرآن و حدیث میں صاف صاف ان کی فضیلت موجود ہے۔ ان کی اہمیت سے قطعِ نظر، مسافروں کے لیے ہر وقت جو دروازہ کھلا دکھائی دیتا ہے، وہ بزرگوں کی خانقاہ ہے۔

خانقاہوں کے اس روحانی نظام نے صدیوں تک امت کے فکر و کردار، اخلاق و اطوار کو سنوارا، تزکیۂ قلب کروا کر نفس کو قابو میں رکھا، بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہِ راست پر لایا، دلوں کی کدورتوں کو دور کرکے صدق کی عطر سے معطر و منور کیا۔ یہ روحانی مراکز نہ سیاست کی آماجگاہ ہیں، نہ معیشت کا مرکز، بلکہ روح کی تربیت گاہ ہیں؛ جہاں ہر آنے والے کو اپنے رب سے لو لگانے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کا طریقہ بتایا جاتا ہے، سلوک کی منزلیں طے کرائی جاتی ہیں، عشقِ صادق کا لبادہ زیبِ تن کرایا جاتا ہے اور اسے عارف باللہ بننے کی راہ دکھائی جاتی ہے۔

خانقاہ و زاویہ کے اصول و ضوابط اور کام کرنے کے طریقے پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خانقاہ کا تصور شروع ہی سے موجود رہا ہے۔ قرآنی اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المقدس میں حضرت مریم علیہا السلام کے لیے ایک عبادت گاہ مخصوص تھی، جس میں آپ عبادت کیا کرتی تھیں۔ وہیں حضرت زکریا علیہ السلام نے بے موسم کے پھل دیکھنے کے بعد، تقریباً ایک سو بیس سال کی عمرہونے کے باوجود، اولاد کے لیے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسا فرزندِ ارجمند عطا فرمایا۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

فِيْ بُيُوْتٍ أَذِنَ اللّٰهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ ۙ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۙ

’’ان گھروں میں ہے جن کی تعظیم کرنے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے، ان میں صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔‘‘

بعض مفسرین نے اس آیتِ مقدسہ سے خانقاہ مراد لی ہے۔

سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ ﷺ نے صفہ کا انتخاب فرمایا۔ یہ پہلی درسگاہ بھی تھی اور پہلی خانقاہ بھی، جہاں میرے نبی ﷺ اپنے اصحابِ  کی تعلیم و تربیت فرماتے، تزکیۂ قلب و نفس کراتے،جس سےظاہر وباطن کی صفائی ہوتی تھی۔

اسی سلسلے کو صحابۂ کرام اور تابعینِ عظام نے فروغ دیا۔ سلسلہ در سلسلہ بصرہ میں حضرت خواجہ حسن بصری اور امام ابن سیرین کی بارگاہ انواروتجلیات کامرکزبنارہا، بغدادِ معلیٰ میں حضرت معروف کرخی اور سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی نے اسے آگے بڑھایا، نیشاپور میں خواجہ بایزید بسطامی کا آستانہ مرجعِ خلائق ہوا، اور سرزمینِ گیلان پر غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی، قندیلِ نورانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہم اللہ کا مدرسۂ نظامیہ درسگاہ بھی رہا اور خانقاہِ پُرانوار بھی۔

یہ سب وہ نورانی قندیلیں ہیں جن سے خانقاہی نظام خوب منور و مجلی ہوا۔

جب یہ نظام سرزمینِ برصغیر میں وارد ہوا تو سلطانُ الہند، عطائے رسول، حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری، داتا گنج بخش لاہوری، حضرت خواجہ بہاء الدین زکریا ملتانی، حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردی، فریدِ عصر حضرت بابا فرید الدین گنجِ شکر، سلطانُ المشائخ حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء، مخدومِ جہاں حضرت شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری، سلطانُ التارکین، غوثُ العالم حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہم الرحمہ جیسے آفتاب و ماہتاب نے اسے مزید جِلا بخشی اور بامِ عروج تک پہنچایا۔

باضابطہ طور پر پہلی صدی ہجری ہی میں خانقاہ کا قیام معرضِ وجود میں آگیا تھا۔ یہ وہ مراکز تھے جہاں سے نکلنے والے کوئی رومی بنے، کوئی رازی بنے، کوئی غزالی بنے تو کوئی شمسِ تبریز بنے؛ اور ماضیِ قریب میں کوئی اشرف الاولیاء بنا، کوئی خاتم الاکابر، کوئی سرکارِ کلاں، کوئی قطب المشائخ، کوئی تیغِ علی، کوئی مفتیِ اعظم اور کوئی محدثِ اعظم بنا۔ ایک سے ایک ماہ و نجوم درسگاہ و خانقاہ سے نکلتے رہے۔

یہ اظہر من الشمس و ابین من الامس ہے کہ اکثر خانقاہ کے گدی نشین و شیخِ کامل کسی نہ کسی درسگاہی استاذکے ضرور تلامذہ میں ہیں، تو یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثر جامعہ و دارالافتاء کے عالم و فاضل کسی نہ کسی خانقاہ کے باعمل شیخ کے ضرور مرید ہیں۔ گویا اکثریت ایک دوسرے کی فیض یافتہ ہے۔

جب تک درسگاہ اور خانقاہ ایک ہی جگہ موجود تھی، تب تک فتنہ و فساد، انتشار و تنازعات نے محبت و اخوت کی جگہ پر جنم نہیں لیا تھا۔ جب سے یہ دونوں مراکز الگ الگ ہوئے، تب سے شاید اختلافات و انتشارات میں اضافہ ہوگیاہے۔

آج بھی اختلافات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے درسگاہ میں تصوف کو شامل کرنا چاہیے اور خانقاہ میں علم و تربیت کا باقاعدہ درس ہونا چاہیے، تاکہ داخلی اختلافات سے بھی اور خارجی اختلافات سے بھی، یعنی رافضیت، خارجیت اور ناصبیت سے قوم کو محفوظ رکھا جاسکے۔

’’تزکیةُ الأخلاقِ من أهمِّ الأمورِ عند القوم، ولا يتيسَّر ذلك إلا بالمجاهدة على يد شيخٍ كامل۔‘‘

صرف ظاہری علم یا کتابی مطالعے سے انسان کے باطن اور اخلاق کی اصلاح نہیں ہوتی، بلکہ اخلاق سنوارنے کے لیے کسی کامل روحانی رہبر یا مرشد کی عملی صحبت ضروری ہے۔ جس طرح علمِ ظاہر حاصل کرنے کے لیے اساتذۂ کرام کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح اچھے اخلاق و عمدہ تربیت کو اپنانے کے لیے ایسے بزرگوں کی عملی تربیت درکار ہوتی ہے جو ’’الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللهُ‘‘ کی عملی تفسیر ہوں۔

صرف کتب کا درس انسان کو نظریاتی معلومات تو دے سکتا ہے، لیکن نفس کی اصلاح اور تزکیۂ باطن عملی صحبت کے بغیر ممکن نہیں۔ حسنِ اخلاق سرورِ عالم، نورِ مجسم، فخرِ دو عالم ﷺ کی سب سے بڑی صفاتِ مبارکہ میں سے ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو بزرگانِ دین کی صحبتِ صالحہ سے نوازے، ان کی سیرت کو اپنانے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔

(مفتی) محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی 

دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ،قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A