29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی

جامع معقولات و منقولات حضرت علامہ مفتی محمد قمر عالم اشرفی جامعی صاحب قبلہ Post Date: 2026-09-05

ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی

  • ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی

  • شیخِ طریقت، رہنمائے شریعت، استاذنا المکرم، شیخنا المعظم حضرت علامہ مولانا الحاج محمد ناظر حسین خان اشرفی جالوی رحمۃ اللہ علیہ، ان نابغۂ روزگار اور یکتائے زمانہ شخصیات میں سے ایک تھے جن کی مثل لوگوں کی آنکھوں نے اس عہد و عصر میں بہت کم دیکھی ہوگی۔

میں نے حضرت استاذی المکرم کی صحبتِ بابرکت میں ایک لمبا عرصہ گزارا۔ میں نے اس طویل مدت میں آپ کے خصائل و شمائل، طور طریقے، وضع قطع، بود و باش، روز و شب اور شام و سحر کا خوب مشاہدہ کیا۔ آپ کی خلوت بھی پائی اور جلوت بھی، سفر بھی دیکھا اور حضر بھی۔

رب تبارک و تعالیٰ نے آپ کو جن صفات کا حامل بنایا اور جو خوبیاں آپ میں رکھیں، ان صفات کے حاملین اور ان خوبیوں کے لوگ اس زمانے میں بہت کم، بلکہ نایاب ہیں۔ قدرت نے انہیں جمالِ ظاہر سے بھی مالا مال کیا اور کمالِ باطن سے بھی وافر حصہ عطا فرمایا۔

جو ان سے ایک بار ملتا، پھر ان کا ہو جاتا؛ جو ان کی مجلس میں بیٹھتا، پھر بیٹھ جاتا، جو ان کی سنتا، سنتا ہی رہتا،جو انہیں تکتا، تکتا ہی جاتا۔

خود لوگوں سے ان کا ملنا جلنا کم تھا، مگر خلق اللہ کی بھیڑ آپ کے پاس امنڈتی چلی آتی۔ آپ کا دسترخوانِ کرم اپنے، بیگانے، قریب و بعید سب کے لیے عام تھا۔ آپ کا دل گویا ایک سمندر تھا جس میں سب کے لیے ایثار و خلوص، محبت و الفت اور پیار و ہمدردی کی لہریں موجزن تھیں۔

کیا امیر و غریب، کیا متنعم و خستہ حال، سب کے لیے آپ کے اندر ایسی اپنائیت تھی کہ کسی آنے والے کو بیگانگی اور خالی پن کا احساس نہ ہوتا۔ لیکن ان سب کے باوجود اللہ نے آپ کو عجیب و غریب رعب و دبدبہ عطا فرمایا تھا۔ ایسا رعب و دبدبہ کہ انتہائی قریب ہونے کے باوجود بھی کسی میں ہمت نہ تھی کہ خلافِ شرع کوئی بات بولے یا کوئی کام کرے۔

اگر ایسا ہوتا تو آپ فوراً ٹوکتے، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے، نہ کسی کو خاطر میں لاتے۔ نازک سے نازک اوقات میں بھی آپ کے پائے استقامت میں جنبش نہ آتی۔ آپ اکثر فرماتے:

"عزت و سربلندی اتباعِ سنت اور شریعت پر عمل کرنے سے ہے، نہ کہ شریعت سے منہ موڑنے میں ہے۔"

تقویٰ و پرہیزگاری، عزیمت و بلند ہمتی، قول کی پابندی، کردار کی بلندی، عمل کی پختگی، احوال کی درستگی، فکر کی سلامتی، کمالِ متابعت، اعلیٰ درجے کی استقامت، نورِ قلب اور اطمینانِ نفس آپ کے امتیازی اوصاف تھے۔ حق گوئی و بے باکی آپ کا خاص شعار تھا۔

حافظہ بلا کا تھا، ذہانت خداداد تھی، دماغ منطقی تھا، کتابوں کے مطالعے سے خاص شغف تھا۔ جو بھی مطالعہ فرماتے، برسوں بعد وہ مستحضر رہتا۔

ایک مرتبہ تولہ، رتی اور ماشہ وغیرہ کی بحث نکل پڑی کہ اس کی مقدار کیا ہوتی ہے؟ آپ نے فوراً ایک کتاب نکالی جو بہت ہی بوسیدہ حالت میں تھی اور دکھایا کہ دیکھو، یہ ہے تولہ کی مقدار، یہ ہے رتی، یہ ہے ماشہ۔

ایک بار یہ بحث چھڑی کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا جنت میں کس نبی کی زوجیت میں ہوں گی؟ مجلس میں تمام علما اس سوال کا جواب دینے سے قاصر رہے۔ آپ نے فرمایا کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا جنت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں ہوں گی۔

اخبار پابندی کے ساتھ پڑھتے، بلکہ آپ کے وہ تلامذہ جو درجاتِ عالیہ میں ہوتے، ان کو اخبار بینی کی تاکید کرتے۔

ایک بار ظہر کی نماز کے بعد میں ان کے پاس تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھ مجھے کھانا کھلایا، اس کے بعد قیلولہ کے لیے لیٹ گئے اور اخبار کا مطالعہ کرنے لگے۔ مجھے بھی ایک ورق دیا پڑھنے کے لیے۔ میں نے سرخیاں پڑھیں اور ایک کنارے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا:

"اخبار پڑھا کرو، اخبار بینی سے بہت سے حال، احوال کی خبر مل جاتی ہے۔"

اور فرمایا:

"عالم وہی ہے جو شریعت بھی جانتا ہو اور اپنے زمانہ کے احوال پر نظر بھی رکھتا ہو۔"

ان کا روز کا معمول تھا کہ اخبار صبح کتنی ہی جلدی آتا، مگر طلبہ کو پڑھاتے وقت کبھی اخبار کو ہاتھ نہ لگاتے، بلکہ اخبار بینی دن میں دس بجے کے بعد کرتے یا پھر دن کا کھانا کھانے کے بعد۔

آپ اپنے اصول کے بڑے پابند تھے اور ہر کام کے لیے آپ کے اوقات منضبط ہوتے۔ ناشتہ کا وقت مقرر تھا، طلبہ کی پڑھائی کا وقت مقرر تھا، چائے کا وقت مقرر تھا، اوراد و وظائف کا وقت مقرر تھا، لوگوں سے ملنے کا وقت مقرر تھا، حتیٰ کہ آپ نے غسل کا وقت بھی مقرر فرما رکھا تھا کہ جمعہ کے روز کس وقت غسل کرنا ہے اور دوسرے ایام میں کس وقت غسل کرنا ہے۔

اوقات کی پابندی کا حال یہ تھا کہ آپ رات میں کتنی ہی تاخیر سے سوتے، فجر ناغہ نہ ہوتا۔

اولاً تو آپ بہت کم کسی کے یہاں دعوت میں جاتے۔ اگر کوئی بہ اصرار دن کے کھانے پر مدعو کرتا تو فرماتے:

"اگر ظہر کی نماز کے بعد فوراً انتظام کر سکتے ہو تو دعوت کرو، ورنہ چھوڑ دو۔"

اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ دن کے کھانے کے بعد کچھ دیر اخبار بینی کرتے، اس کے بعد قیلولہ کرتے اور پھر طلبہ کو پڑھانے بیٹھ جاتے۔

استغنا و بے نیازی اور مستقل مزاجی کا حال یہ تھا کہ ایک ایسی جگہ جہاں مسلمانوں کی تعداد ایک زمانہ تک انتہائی قلیل تھی، نہ رہائش کا کوئی معقول بندوبست، نہ کھانے پینے کا کوئی مناسب انتظام، تنخواہ اتنی معمولی کہ چائے پان کے لیے بھی ناکافی ہو؛ ایسی جگہ پر آپ نے تقریباً پینتالیس برس کمالِ صبر و شکر اور قناعت کے ساتھ گزار دیے۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دینِ متین کی ایسی خدمت فرمائی کہ آج وہی جگہ آپ کی جہدِ مسلسل اور سعیِ پیہم کی وجہ سے گل و گلزار اور علم و ادب کا عظیم گہوارہ ہے۔

آپ نے تبلیغی دوروں، دعوتی سرگرمیوں اور اپنے خطابات و مواعظ کے ذریعہ نہ جانے کتنی بیمار روحوں کو شفا بخشی، کتنے ہی تاریک دلوں کو روشنی عطا کی، کتنے ہی بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہِ راست پر لگایا، کتنے ہی لوگوں کو گمراہی کے دلدل میں گرنے سے بچایا۔

حضرت استاذی المکرم کی تعلیم و تربیت کا انداز یگانہ اور منفرد تھا۔ وہ اپنے تمام تلامذہ اور اصحابِ درس کی طرف یکساں اعتنا فرماتے، سب کے ساتھ کمالِ شفقت و محبت کا معاملہ کرتے۔

وہ اپنے شاگردوں کو نہ صرف پڑھاتے، بلکہ انہیں تراشتے، جیسے کوئی جوہری ہیرے کو تراشتا ہے۔ روزِ اول ہی سے طلبہ کو فرائض و واجبات کا پابند بناتے، آداب و سنن کی رعایت کراتے، ان کی ظاہری و باطنی تربیت فرماتے، انہیں مختلف امور کی مشق کراتے اور چھوٹی سے چھوٹی غلطیوں کی اصلاح فرماتے۔

آپ کا ذوق انتہائی اعلیٰ اور بلند تھا، اس لیے کسی بھی چیز کو رسماً نہیں، بلکہ پورے اخلاص و للہیت اور مکمل توجہ و انہماک کے ساتھ انجام دیتے۔

طلبہ جب اپنے اسباق سناتے تو کیا مجال کوئی طالب علم غلط پڑھ کر نکل جائے۔ سخت گرمی کا زمانہ ہوتا، چلچلاتی دھوپ ہوتی، پورا جسم پسینے سے شرابور ہوتا، مگر آپ بغیر کسی اف کے اپنے تلامذہ کو پڑھانے میں مگن رہتے۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنی پڑھائی کے زمانہ میں کبھی نہیں دیکھا کہ درس کے اوقات میں انہوں نے ایک گلاس پانی بھی پیا ہو۔ ہاں، کبھی کبھار کوئی مہمان آگیا تو چائے نوشی ہو جاتی۔

پڑھائی کے وقت ان کا رویّہ انتہائی سخت ہوتا، مگر جیسے ہی پڑھائی ختم ہوتی، اپنے تلامذہ کے ساتھ آپ کا رویّہ نرم پڑ جاتا۔ انہیں کھلاتے، پلاتے، ان کے ساتھ مزاح فرماتے، اور آپ کے مزاحات عموماً ایسے ہوتے جن سے طلبہ کی تشحیذِ اذہان ہوتی۔

الغرض، آپ ایک عہد ساز شخصیت تھے، ایسی شخصیت جو روز روز نہیں بلکہ برسوں میں پیدا ہوتی ہے۔

ہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھی

وہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگیں


فقط محمد قمر عالم اشرفی جامعی کولکاتا

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A