29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

خلیفۀ قطب ا لمشایخ کا مسجد میں مدرسہ کا قیام

خلیفۀ تاج الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد منظر حسن خان اشرفی مصباحی ناظم اعلی: دارالعلوم فیضان قطب ال Post Date: 2026-09-05

خلیفۀ قطب ا لمشایخ کا مسجد میں مدرسہ کا قیام

خلیفۀ قطب ا لمشایخ کا مسجد میں مدرسہ کا قیام


والد صاحب علیہ الرحمہ نے علم دین کی ترویج و اشاعت ، قوم مسلم کو علم دین سے آراستہ کرنے اور ان کو شعور و آگہی سے وابستہ کرنے کے لیے سب سے پہلے مسجد کے اندر ایک مکتب قائم کیا ، جس میں موجودہ متولی جناب محمد عبد القادر اشرفی صاحب کے بھائی جناب عبدالحکیم اشرفی صاحب ،  جو ابھی اس مسجد میں مؤذن ہیں ، انھوں نے آپ سے پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ گو یا سب سے پہلے ان کا داخلہ ہوا اور وہ اس مدرسہ و مکتب کے پہلے طالب علم ٹھہرے، جن کو آپ بخوشی فی سبیل اللہ تعلیم دینے لگے ۔ ان کے بعد آہستہ آہستہ پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور اس طرح سے وہاں ایک دینی مکتب کا آغاز ہوا ، جہاں دن میں بچے اور بچیاں اور رات میں بڑے لوگ پڑھنے لگے۔ آپ کا معمول تھا کہ آپ بعد نماز فجر ہوٹل جاتے ، مگر جب فقیر راقم الحروف کو اپنے پاس تعلیم وتربیت کے لیے بلا یا تو اس کے بعد آپ کا معمول میرے حفظ و دور کے سال تک  یہ رہا کہ آپ مصلیٰ ہی پر فقیر کا اکثر سن لیا کرتے ، پھر ہوٹل جاتے ، وہاں سے تالاب میں غسل کرنے کے بعد روزانہ دو دوست علیہما الرحمہ کے مزار پر فاتحہ پڑھتے اس کے بعد سات بجے کے قریب مسجد پڑھانے آتے ، پھر گیارہ ، ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ہوٹل جاتے ، اس کے بعد ظہر کے وقت آکر آذان دیتے اور نماز پڑھتے ، پڑھاتے۔ ظہر کے بعد کھانا کھا کر کچھ دیر قیلولہ کرتے ، پھر کام پر چلے جاتے ۔ عصر سے پہلے آکر بچوں کو پڑھاتے۔ عصر کے بعد چائے نوش کرتے اور اسی وقت تھوڑی دیر چہل قدمی کرتے ہوئے کہیں تشریف لے جاتے ۔ مختصر یہ کہ ہر کام کے لئے آپ کا وقت متعین تھا جس پر وہ عامل بھی تھے۔

کبھی عالی قدر جناب الحاج محمد اشرف علی انصاری مرحوم و مغفور اور عالی قدر جناب الحاج عبد الجبار انصاری مرحوم و مغفور کے پاس جاتے اور وہیں کچھ دیر گفت و شنید ہوتی پھر آکر مغرب کی نماز پڑھاتے ۔ بعد نماز مغرب کام پر جاتے اور وہاں سے قبل عشا آکر شام کے وقت آنے والے طلبہ کو درس دیتے ۔ عشا کی نماز کے بعد اگر کہیں پروگرام ہوتا تو تشریف لے جاتے ، ورنہ ہوٹل میں جا کر بقیہ کام انجام دیتے اور رات کا کھانا کھا کر مسجد تشریف لاتے۔

والد صاحب کے خالہ زاد بھائی اور میرے ماموں جناب محمد نور الحق خان رضوی ، جنھوں نے والد صاحب کی محنتِ شاقہ کو دیکھا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اتنی محنت و مشقت کرنے والی شخصیت میری نظر سے نہیں گزری۔ وقت کی پابندی ، وعدہ وفائی ، عبادت و ریاضت سے بے پناہ لگاؤ اور بلاناغہ مطالعہ کرنے کا شوق ، ملنے ، جلنے والے کا مکمل خیال یہ سب چیزیں خلیفہ قطب المشائخ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ آپ کسی کی خلاف شرع باتوں کو برداشت نہیں کرتے تھے اور اس پر بہت سخت ناراض ہوتے ، خواہ وہ نہایت قریبی ہی کیوں نہ ہو۔ بعد میں اس کو اپنے پاس بیٹھا کر سمجھاتے بھی۔

ماموں جان کہتے ہیں کہ خلیفہ قطب المشائخ کا جلال خلاف شرع چیزوں کو دیکھ کر ہوتا ، ورنہ وہ بے پناہ محبت کرنے والے اور رحم دل تھے ، کسی کی تکلیف سنتے تو بے چین ہو جاتے اور جب تک اس کی پریشانی دور نہیں ہو جاتی آپ بے چین و بے قرار اس کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ، اپنے ، بیگانے ہر ایک کی بے غرض مدد کرتے۔

والد صاحب جب مسجد میں رہتے تو بلاناغہ رات کے وقت کم از کم دو گھنٹہ کتابوں کا مطالعہ کرتے ۔ مسائل شرعیہ آپ کو از بر تھے ۔ در پیش مسائل کا بروقت تسلی بخش اس طرح جواب دیتے ایسا لگتا کہ آپ نے اسی وقت اس مسئلہ کا مطالعہ فرمایا ہے۔

آپ فرماتے تھے کہ ہمیشہ کتابوں کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے ، جو علم تمھارے سینے میں ہے وہی تمھارا ہے۔ کسی مسئلہ میں اگر شک ہو تو وہ مسئلہ بالکل نہ بتاؤ ، بلکہ سائل سے کہہ دو کہ کتاب دیکھ کر بتاؤں گا ، اس میں شرم و عار محسوس نہ کرو۔

آپ بڑے حاضر جواب تھے۔ ہم لوگ جب گھر جاتے تو آپ ساتھ میں کتاب لے جانے کی تاکید کرتے ، تاکہ پڑھائی کا نقصان نہ ہو۔

آپ فرماتے تھے کہ بابو میرے اساتذہ کرام جب سبق پڑھاتے تھے تو مشکل اسباق کو نقشے بنا کر سمجھاتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں آپ کے تلامذہ موجود تھے ، اسی درمیان مدخلِ ظل اور مخرج ظل کی بات نکل گئی آپ نے اسی وقت کاغذ پر نقشہ بنا کر ہم سبھی کو سمجھایا اور فرمایا نقشہ بنانے کے بعد مسئلہ ذہن میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ جب ہم لوگ مدرسہ سے تعطیل کے ایام میں گھر پر آتے تو آپ کتابوں کے اسباق دریافت کرتے مشکل اسباق پر تسلی بخش گفتگو فرماتے لگتا کہ آپ پہلے ہی سے اس موضوع پر تیار بیٹھے ہیں۔ یہ آپ پر مرشد کا فیضانِ کرم تھا۔

آپ فجر سے قبل ہی اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے اور ذکر و فکر میں لگے رہتے ۔ فجر کی آذان بلاناغہ آپ دیا کرتے۔

1990ء سے اذان فجر کی ذمہ داری آپ نے اس فقیر کے سپرد فرمائی۔ اسی طرح ہر وقت کے اذان کی ذمہ داری ایک طالب علم کو آپ نے دے دی تھی ۔ فقیر کے 1992ء میں مدرسہ جانے کے بعد باضابطہ آخری عمر تک مسجد میں رہتے ہوئے فجر کی اذان خود دیتے رہے۔ کبھی دوسرے کو اذان دینے کے لیے نہیں فرمایا۔

اگر کبھی پروگرام سے آنے میں تاخیر بھی ہو جاتی ، جب بھی معمول کے مطابق آپ بیدار ہو جاتے اور نماز تہجد ادا کرتے ، حالاں کہ دار العلوم کے اندر سالوں سے طلبہ موجود رہتے تھے ، لیکن آپ نے کسی کو ذمہ داری سپرد نہ فرمائی۔

بلا شبہ والد صاحب قبلہ مسلک اہل سنت کے عظیم سپاہی تھے۔ آپ نے کبھی بھی کسی بد مذہب (دیوبندی، وہابی ، نیچری ، شیعہ ، رافضی، خارجی ، ناصبی) سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا ، نہ کبھی ان لوگوں کو شادی بیاہ میں دعوت دی اور نہ ہی کبھی آپ ان لوگوں کی شادی میں شریک ہوئے ۔ مسلک اہل سنت جسے آج امتیاز کے لیے مسلک اعلیٰ حضرت کہتے ہیں ، اس پر تاعمر سختی کے ساتھ قائم رہے اور لوگوں کو اس پر قائم رہنے کی تلقین فرماتے رہے۔

آپ کی کد و کاوش سے اس علاقے میں سنیت کا بڑا کام ہوا۔ بے شمار لوگوں کے دلوں میں اللہ عزوجل اور اس کے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا چراغ روشن ہوا۔ سادات کرام اور اولیائے عظام کی بارگاہوں سے رشتہ غلامی مضبوط ہوا۔ آپ کی ذات سے بے راہ رو کو راہ مستقیم نصیب ہوئی ۔ آپ نے اپنی جد و جہد سے کئی مساجد کو بد مذہبوں کے چنگل سے آزاد کرایا، سنی صحیح العقیدہ امام لے کر آئے۔ جب بھی ضرورت پڑی تن من دھن سے فروغ اہل سنت کے لیے کھڑے رہے۔ آپ کا مشن صرف فروغ اسلام وسنیت تھا۔

آپ مشربی اختلافات سے کوسوں دور تھے۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ ہم دونوں بھائیوں کا رشتہ جہاں کیا ، وہ سب حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے مرید ہیں۔ آپ کا مطمح نظر لوگوں کے ایمان وعقیدے کی حفاظت تھی ، اسی لیے جو بھی شیخ کامل تشریف لاتے ، آپ کا طریقہ تھا کہ پہلے آپ بے مرید کو مرید کرا دیتے۔ یقینا والد صاحب علیہ الرحمہ کی زندگی نسل نو کے لیے بہت بڑا درس ہے۔ آپ کی زندگی کے شب و روز اور آپ کا جہد مسلسل نسل نو کے لیے مشعل راہ ہے ، جو اپنے وقتوں کو لہو و لعب کی نذر کر دیتے ہیں اور یونہی اپنی زندگی بے فائدہ برباد کر دیتے ہیں ۔ سچ کہا گیا ہے کہ جو وقت کی قدر کرتا ہے اسی کی زمانہ قدر کرتا ہے۔ ورنہ دنیا میں تو بہت سے لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، کوئی ان کا نام تک لینے والا نہیں ہوتا ہے۔

(مفتی) محمد منظر حسن خان اشرفی مصباحی 

ناظم اعلی: دارالعلوم فیضان قطب المشایخ ، دار العلوم حجازیہ چشتیہ ممبئ۔ بانی: المرکز الاسلامی جالے دربھنگہ بہار۔

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A