نبذة من حیاة نبینا الکریم ﷺ ( تیسری قسط )
س : مَتَى تُوُفِّيَ رسولُ اللهِ ﷺ ؟
رسول اللہ ﷺ کا کب وصال ہوا؟
ج : عَلىٰ قولٍ واحدٍ ـ تُوُفِّيَ رسولُ اللهِ ﷺ فِي المدينةِ المنورةِ فِي يومِ الاِثْنَيْنِ وَ فِيْ اِثْنَيْ عَشَرَ مِن شهرِ ربيعِ النَّورِ سَنَةَ أَحَدَ عَشَرَ مِنَ الْهِجْرَةِ النَّبُوَّةِ ﷺ الْمُوَافِقَةِ سَنَةَ سِتِّ مِائَةٍ وَ اثْنَيْنِ وَ ثَلَاثِيْنَ مِنَ الْمِيْلَادِ . و اکثر الاقوال علیٰ ضدہٖ ایضاً۔
ایک قول کے مطابق۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مدینہ منورہ میں بروز دوشنبہ ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۱ ہجری مطابق ۶۳۲ عیسوی میں ہوا۔ حالاں کہ زیادہ تر قول اس کے خلاف بھی ہیں۔
س : وَبِأَيِّ مَكَانٍ وَ رَوْضَتُهُ ﷺ؟
اور کس مکان میں ان کا مزار اقدس ہے؟
ج : رَوْضَتُهُ فِيْ حُجْرَةِ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ السَّيِّدَةِ الْكَرِيْمَةِ عَائِشَةَ الصِّدِّيقَةِ رضي الله تبارک و تعالیٰ عنها الَّتِيْ مُتَّصِلَةٌ إِلىٰ شِمَالِ الْمَسجِدِ النَّبَوِيّ صلى الله عليه و آله وسلم.
ان کا روضہ اُم المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرۂ مبارکہ میں ہے جو جانب شمال مسجد نبوی ﷺ سے متصل ہے۔
ج : {مَرْقَدُہٗ فِيْ حُجْرَةِ عائشَةِ الصِّدِّیْقَةِ}
(مزار اقدس حضرت عائشہ کے حجرہ میں ہے)
س : أَنَبِيُّنَا حَيٌّ فِيْ قَبْرِهِ ﷺ ؟
کیا ہمارے نبی ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں؟
ج : إِنَّ نَبِيَّنَا بَلْ كُلَّ الْأَنْبِيَاءِ أَحْيَاءٌ فِي قُبُوْرِهِمْ كما قَالَ النَّبِيُّ ﷺ إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ فَنَبِيُّ اللهِ حَيٌّ يُرْزَقُ فِي قَبْرِهِ . (رواه مسلم)
بیشک ہمارے نبی ﷺ بلکہ تمام انبیاء کرام اپنی اپنی قبر میں زندہ ہیں۔ جیسا کہ سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”بیشک اللہ عزوجل نیز زمین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیاء کرام کے جسموں کو کھائے پس اللہ کے نبی اپنی اپنی قبر میں زندہ ہیں۔“
ج : {نَعَمْ}
(جی ہاں)
س : هل يَجُوْزُ زِيَارَةُ قبر النبيِّ ﷺ و رَوْضَتِهِ الشَّرِيفَة؟
کیا حضور اکرم ﷺ کی قبر اطہر اور روضۂ مقدسہ کی زیارت جائز ہے؟
ج : نعم ، يجوزُ زيارةُ قبرِ النبيِّ الأمين الكريم ﷺ من أعظمِ القُرُباتِ و آكدِ المستحباتِ ۔
جی ہاں! سرکار مدینہ ﷺ کے قبر اطہر کی زیارت جائز و مستحب اور عظیم قربت کا سبب ہے۔
ج : {بَلیٰ، اِنَّ جائِزاً}
(کیوں نہیں ، بیشک جائز ہے)
س : هل السفر مشروع بقصد قبر النبي ﷺ ؟
کیا خالص قبر نبوی ﷺ کے ارادہ سے سفر کرنا روا ہے؟
ج : نعم، السفر جائز بقصد زيارة قبر النبي ﷺ و روضته الشريفة وهكذا زيارة قبور الشهداء والأولياء والصلحاء وعامة المسلمين أيضاً ـ
جی ہاں! نبی پاک ﷺ کی قبر اقدس اور ان کے روضۂ مطہرہ کی زیارت کے ارادہ سے سفر جائز ہے اور اسی طرح شہداء کرام، اولیاء عظام، نیک بندے اور عام مسلمانوں کی قبروں کی زیارت بھی جائز ہے۔
ج : {نعَمْ}
(جی ، ہاں)
س : هل لديكَ أيُّ دليلٍ من الكتابِ و السنةِ علىٰ ما قلتَ ؟
کیا آپ کے پاس قرآن و سنت سے کوئی ثبوت ہے جو آپ نے کہا ؟
ج : نعم لدي دلائلٌ كثيرَةٌ من الكتاب و
السنة منها: قال الله تعالىٰ: ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاءوک فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسولُ لوجدوا الله توابا رحيماً۔ [في القران من سورة النساء] اما الحديث : فعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: من جاءَ ني زائراً لا تُعْمِلُهُ حاجَةٌ إِلَّا زيارتِيْ ، كان حَقّاً عَلَيَّ أَنْ أَكُوْنَ لَهُ شَفيعاً يومَ القيامةِ “ [ أخرجه الطبراني ] وقال ﷺ: ”مَنْ زَارَ قبرِيْ وجبتْ لَهُ شَفَاعَتِيْ “ [ أخرجه الدارقطني في ”السنن“]
جی ہاں میرے پاس کتاب و سنت سے بہت دلیل ہے جیساکہ۔ اللہ تعالی نے فرمایا : اے محبوب! اگر کوئی اپنے جانوں پر ظلم کرے تو وہ تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہے اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائے گا۔ رہی حدیث : تو حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: جو میری زیارت کے لیے میرے پاس آئے، میری زیارت کے سوا اس کی کوئی اور غرض نہ ہو، تو میرے اوپر واجب ہے کہ بروز قیامت میں اس کے لیے شفاعت کرنے والا بنوں۔ [طبرانی] نبی پاک ﷺ نے فرمایا: جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہے۔ [قطنی]
ج : {نعم، الدّلیلُ موجودٌ في القرآن و الحدیث }
(جی قرآن و حدیث میں دلیل موجود ہیں)
س : هل يجوز السفر لزيارته بعد َ الوفاةِ ایضاً؟
کیا بعد وفات بھی زیارت کے لیے سفر جائز ہے؟
ج : نعم یجوزُ بعدَ وفاةِ النبيِّ ﷺ ايضاً. في الحديث: عن ابن عمر رضي الله عنهما ، أَنَّ رسولَ الله ﷺ قال : ”مَنْ حَجَّ فَزارَ قبريْ بعدَ مَوْتِيْ ، كَانَ كَمَنْ زَارَنِيْ فِيْ حياتِيْ “ [أخرجه الامام البيهقي في ”شعيب الايمان“ و ”السنن الکبریٰ“، والامام الطبراني في ”المعظم الأوسط“]
جی ہاں! سفر کرنا جائز ہے سرکار علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی۔ حدیث میں ہے حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا: جس نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی، گویا کہ اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ [شعب الایمان، طبرانی]
وقال العبدري المالكي : ”إن قصد زيارته ﷺ أفضل من قصد الكعبة و من بيت المقدس“ [ حاشية الجمل على شرح المنهج]
اور عبدری مالکی نے کہا: بیشک سرکار علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا ارادہ کعبہ کے قصد سے افضل ہے اور بیت المقدس کے قصد سے بھی افضل ہے۔
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.