*اعمال عاشوراء*
۱- * حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل گناہ کا کفارہ ہے یعنی مٹا دیتا ہے -( ترمذی شریف)*
۲- *حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ روز عاشوراء چار رکعات نماز دو سلام سے پڑھے - ہر رکعت میں سورہ فاتحہ یعنی الحمد للّٰہ رب العلمین ۰۰۰۰ کے بعد سورہ زلزال یعنی اذا زلزلت الارض••• ، سورہ کافرون یعنی قل یاایھا الکافرون۰۰۰۰، اورسورہ اخلاص یعنی قل ھو اللہ احد۰۰۰۰۰ ایک ایک بار پڑھے - نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مرتبہ درود شریف پڑھے - ( غنیۃ الطالبین ، صفحہ : ۴۲۷)*
۳- *چار رکعات نماز نفل اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص پچاس مرتبہ پڑھیں - اللہ تعالی اس نماز پڑھنے والے کے پچاس برس گزشتہ اور پچاس برس آئندہ کے گناہ معاف فرمائے گا اور جنت میں اس کے لئے نور کے ہزار محل تعمیر فرمائے گا - ( غنیۃ الطالبین ، صفحہ : ۴۲۷)*
۴- *عاشوراء کے دن سورج بلند ہونے کے بعد ( تقریباً نو بجے) دو رکعت نماز نفل ادا کریں - ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد جو بھی سورہ یاد ہو پڑھیں - ان شاء اللہ،بے حد و بے اندازہ ثواب پائیں گے- ( راحت القلوب )*
۵- *عاشوراء کے دن ستر مرتبہ ” حَسࣿبِیَ اللّٰہ وَ نِعࣿمَ الوَکیࣿل “ پڑھے - اللہ تعالی اس کی بخشش فرمائے گا اور اس کا نام زمرۂ مشائخ و اولیاء میں تحریر فرمائے گا -*
*نوٹ : جن کی نمازیں قضا ہیں وہ زیادہ سے زیادہ قضا نماز ادا کریں ۔*
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی کولکاتا
مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
زمرہ: اعمال عاشوراء
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 05-07-2025
تهنئة رأس السنة
بسم الله الرحمن الرحيم
خالص التحيات بمناسبة رأس السنة
اخواني الاعزا ! السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
أهنئكم السنة الجديدة الاسلامية (١٤٤٧هج) تهنئة خاصة ، أسعد الله لنا ولكم كل يوم من هذه السنة الجديدة ، و يجعل لنا أولها و آخرها خيرا كاملا و عافية دائمة و يحفظنا طول السنة من كل شر و ضر في الأرض و السماوات و يرزقنا طول السن و يقدرنا على الايمان و الصحة والسلامة بجاه سيد الكونين والثقلين و آله عليهم الصلوات و التسليمات -
من الفقير الأشرفي
مصنف: محمد وسيم أصغر خان الأشرفي الجالوي -
زمرہ: تهنئة رأس السنة
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 27-06-2025
سوال نمبر 31: اگر صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ بر آمد ہو تو اس کو غسل دینے اور اس کی نماز جنازہ پڑھے جانے کے متعلق کیا حکم ہے۔۔۔۔۔؟؟ سائل : گل محمد خان سمستی پور بہار
الجواب بعون الملک الوھاب ھوالھادی والصواب
واضح رہے کہ جلد و لحم کے بغیر میت کی صرف ہڈیاں ملیں تو اس پر غسل و کفن اور نماز جنازہ ادا کرنے کا حکم نہیں ہے لہذا ان ہڈیوں کو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جاۓ۔
"الا تریٰ أن العظام لایصلي علیہا بالإجماع کما جاء في البدائع الصنائع"۔والله عندہ حسن الصواب
کتبہ
محمد وسیم اصغر خان اشرفي جالوي قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا 46
مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
زمرہ: صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ بر آمد ہو تو اس کو غسل دینے اور اس کی نماز جنازہ۔۔۔۔۔
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 25-06-2025
سوال نمبر 32:کھڑےہوکر داڑھی میں کنگھا کرنا کیسا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب : حضرت سیّدنا وہب بن منبہ رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: جو کھڑا ہوکر داڑھی میں کنگھا کرے گا اس پر قرض چڑھےگا اور بیٹھ کر کرےگا اس سے قرض اترےگا ۔
(حوالہ: الحاوی للفتاوی جلد 2 پیج نمبر,47,46 دارلفکر بیروت۔)* واللہ اعلم بالصواب
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
زمرہ: داڑھی میں کنگھا کرنا کیسا ہے؟
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 25-06-2025
اللھم ہدایة الحق والصواب صورت مسئولہ
اگر باقاعدہ طور پرکسی نے وصیت کی تھی کہ " ان کے میراث سے اسے دیا جاۓ" اور اگر اس کے پاس ثبوت شرعی موجود ہے تو جتنے کی وصیت تھی کفن و دفن اور دیگر واجبی حقوق و قرض کی ادائیگی کے بعد کل ترکہ کے ایک تہائی یا اس سے کم ہے تو اتنے میں وصیت نافذ کی جاۓ گی اور اگر ایک تہائی سے زیادہ ہے تو بقدر ایک تہائی وصیت ہوگی۔
:"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين. ولاتجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية ... ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."
(فتاوی ہندیہ جلد 6)
نیز وہ وراثت کے طور پر کسی چیز کی حقدار نہیں ہے جو اس کے چچا نے چھوڑا ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
کتبہ
فقیر اشرفی
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
خطیب و امام مسجد محبوب رحمانی کولکاتا ۔ 46
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
زمرہ: میراث
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 20-03-2025
محترم جناب مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
سوال:- (١) والدہ محترمہ کی عمر تقریباً 80 سال ہے اور انہیں استنجاء کا پروبلم ہے اچانک زور سے پیشاب آ جاتا ہے واش روم جاتے جاتے کپڑے میں ہوجانے کا خدشہ رہتا ہے تو کیا طواف وسعی میں"پیمپرش" کا استعمال کیا جاسکتا ہے ؟
(٢) طواف وسعی ویل چیئر/اسکوٹر پر کرانے سے کیا ہمیں"رمل" کرنا ہوگا ؟
محمد عرفان آدرا ضلع پرولیا مغربی بنگال
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب و
اللھم ہدایۃ الحق والصواب
صورت مسئولہ میں حالت إحرام ہر ایسی چیز کا استعمال ممنوع ہے جو بدن کی ساخت و ہیئت پر سلا گیا ہو، اگر پیمپر انڈر ویئر کی طرح ہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے بصورت دیگر ایسا نہ ہو بلکہ اس کو باندھا یا چپکایا جاتا ہو تو ضرورت کے وقت اجازت ہے ورنہ نہیں۔ اگر کسی نے سلا ہوا کپڑا بمجبوری استعمال کیا تو دم اس وقت لازم ہوگا جب ایک رات یا ایک دن یا اس سے زیادہ مدت ہو اور اگر اس سے کم ہے تو صدقہ دینا ہوگا۔
فالمحرم لایلبس المخیط جملۃ، ولا قمیصا ولا قباء، ولا جبۃ، ولا سراویل، ولا عمامۃ، ولا قلنسوۃ، ولا یلبس خفین الا ان یجد نعلین، فلا بأس أن یقطعہما أسفل الکعبین فیلبسہما۰ (بدائع الصنائع) وشد الھیمان فی وسطہ ، سواء کانت النفقة لہ او لغیرہ ، و سواء کان فوق الازار او تحتہ ، لانہ لم یقصد بہ حفظ الازار ، بخلاف اذا شد ازارہ بحبل مثلا ۔ ( غنیة الناسک )
لہذا مریضہ کے لیے پیمبرش کا استعمال جائز ہے کہ لأن الضرورات تبيح المحظورات البتہ مريضہ پر فدیہ واجب ہونے کی صورت میں تین دنوں کا روزہ رکھے یا چھ مسکینوں پر نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت تصدق کرے یامریضہ کی طرف سے ایک بکری کی قربانی دی جائے۔ (ملخصا فتاوٰی رضویہ وبہار شریعت)
2۔ واضح رہے کہ جس طواف کے بعد سعی ہے اسی طواف میں کسی کو تکلیف دیے بغیر پہلے تین چکروں میں رمل کرنا سنت ہے اور اس کے ترک سے دم لازم نہیں آتا ۔ ویل چیر پر کرانے والا اگر بہ نیت رمل اپنے سینےکو تان کر اکڑتے ہوۓ رفتار کو بڑھا دیا تو رمل ہوگئی۔
اگر الیکٹرک گاڑی پر کرا رہا ہے تو وہ خود نہ بیٹھے بلکہ جو معذور ہے وہی بیٹھے اگر یہ بھی بیٹھ گیا تو اسے الگ سے طواف و سعی کرنا ہوگا۔
۔
ھذا ماظھر لي من العلم و اللہ عندہ حسن الصواب
کتبہ
فقیر اشرفی
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
زمرہ: طواف وسعی کا مسلہ
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 18-03-2025
*🌹روزے کے 11 طِبِّی فائدے ...🌹*
مجموعی طَور پر طِبِّی اعتبار سے روزہ اللہ پاک کا بہت بڑا انعام ہے جو ہمیں بہت ساری بیماریوں سے نجات بھی دیتا ہے اور بہت ساری بیماریوں سے محفوظ بھی رکھتا ہے۔
*(1)...* روزے کی برکت سے معدے (Stomach) کی تکالیف ، اس کی بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور نظامِ اِنْہِضام (Digestive System) بہتر ہو جاتا ہے
*(2)...* روزہ شوگر لیول ، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اِعْتِدال لاتا ہے اور اس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے (Heart Attack) کا خطرہ نہیں رہتا
*(3)...* روزے کی برکت سے جسمانی کھچاؤ ، ذہنی تناؤ ، ڈپریشن اور نفسیاتی اَمْراض کا خاتمہ ہوتا ہے
*(4)...* روزے کی برکت سے موٹاپے میں کمی آتی اور اِضافی چربی ختم ہوجاتی ہے
*(5)...* روزے کی برکت سے بے اولاد خواتین کے ہاں اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں
صراط الجنان ، پارہ : 2 ، سورۂ بقرہ ، زیرِ آیت : 184 ، جلد : 1 ، صفحہ : 293۔
*(6)...* روزے کی برکت سے قُوَّتِ مدافعت بڑھتی ہے
*(7)...* روزے کی برکت سے آدمی بُرے خیالات سے بچتا ہے یوں ذہن صاف رہتا ہے
*(8)...* روزے کی برکت سے اِنْسَولِین استعمال کرنے میں کمی آتی ہے
*(9)...* روزے کی برکت سے جگر کے ارد گرد جمع ہونے والی چربی کم ہو جاتی ہے
*(10)...* روزے کی برکت سے جلد اور چھاتی کے کینسر کا خطرہ کم رہتا ہے
*(11)...* روزے کی برکت سے اعصابی امراض میں بہتری آجاتی ہے۔
مصنف: -
زمرہ: روزے کے 11 طِبِّی فائدے ...
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 09-03-2025
سائل : محمد جنیدانصاری نوادہ
الجواب
حالت جنابت میں خاتون کا اپنے بچے کو دودھ پلانا جائز ہے چوں کہ جنابت نجاست حقیقیہ نہیں بلکہ نجاست حکمیہ ہے۔ شریعت مطہرہ نے نجاست حکمیہ غسل فرض ہونے کی صورت میں نماز، تلاوت قرآن پاک، دخول مسجد وغیرہ کی ممانعت ہے اس کے علاوہ جنبی کا پسینہ ، لعاب وغیرہ پاک ہی رہتے ہیں ۔ لہذا دودھ پلانے کے لیے طہارت ضروری نہیں ہے ہاں بہتر ہے کہ غسل کرلے پلاۓ لیکن کوشش یہ کرنی چاہیے کہ جلد از جلد غسل فرض کرلے اتنی تاخیر نہ ہو ورنہ اگر نماز قضا ہوگئی تو گناہ ہوگا۔ والله عندہ حسن الصواب
کتبہ
فقیر اشرفیمحمد وسیم خان اشرفی جالوی
کولکاتا۔
مصنف: فقیر اشرفیمحمد وسیم خان اشرفی جالوی
زمرہ: حالت جنابت میں خاتون کا اپنے بچوں کو دودھ پلانا کیسا ہے؟
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 25-12-2024
اللھم ھدایة الحق والصواب
*صورت مسئولہ میں " الیقین لا یزول بالشک " کے پیش نظر اگر واقعی میں وضو کے ٹوٹنے کا صرف شک ہے تو شک سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہو لہذا شک کی وجہ سے دوبارہ وضو بنانے کی ضرورت نہیں اسی وضو پر اکتفا کر تے ہوۓ نماز پڑھ سکتے ہیں۔ جیساکہ کتب فقہ میں ہے: ولو ایقن بالطھارة و شک بالحدث او بالعکس اخذ بالیقین (تنویر الابصار مع الدر المختار جلد اول) اگر طہارت کا یقین ہو اور حدث میں شک واقع ہو جاۓ یا پھر اس کا برعکس ہو تو اس صورت میں جس کا یقین ہو اسے لیا جاۓ گا ۔ " حاصلہ انہ اذا علم سبق الطھارة و شک فی عروض الحدث بعدھا او بالعکس اخذ بالیقین و ھو السابق ( رد المحتار مع الدر المختار ، کتاب الصلاة ، جلد اول) ھذا ماظھر لی من العلم و العلم عند اللہ تعالی عزوجل*
کتبہ
فقیر اشرفی
محمد وسیم اصغر خان اشرفی
قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا 46
*Sawal(31)*
Ulama e kiram ki bargah me arz hai ke zaid asr ki namaz ke liye wazu banaya phir maghrib ki namaz ke waqt wazu me shak hogaya ke wazu hai ya phir toot gaya to aisi soorat me dobara wazu banana zaruri hai ya usi wazu par iktifa kiya ja sakta hai ?
Jawab inayat farma kar shukrya ka mauqa dein.
Almustafti : Hafiz Abdurrahmaan Teghi muzaffarpur..
*Jawaab:*
Soorate masoolah me " Al' Yaqeenu la'yazoolu Bish'shak" ke peshe nazar agar Waqeyi me wazu ke tootne ka sirf shak hai to shak se wazu nahi toot’ta jabtak wazu tootne ka yaqeen na ho lihaza shak ki wajah se dobara wazu banane ki zarurat nahi usi wazu par iktifa karte huye namaz parh sakte hain. Jaisa ke kutube fuqh me hai: ولو ایقن بالطھارة و شک بالحدث او بالعکس اخذ بالیقین
( تنویر الابصار مع الدر المختار جلد اول)
Agar tiharat ka yaqeen ho aur hadas me shak waqe ho jaye ya phir uska bar'aks ho to us soorat me jiska yaqeen ho use liya jayega. wallahu aalamu.
faqeer Ashrafi
Md wasim khan ashrafi
Qaderi Samnani Darul ifta kolkata.
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی
زمرہ: -
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 19-12-2024
سوالات :
1۔ بڑا حوض کسے کہتے ہیں ؟
2 ۔ بڑے حوض میں نجاست گر جاۓ تو اس کا کیا حکم ہے ?
3۔ چھوٹا حوض کسے کہتے ہیں ؟
4۔ چھوٹے حوض میں اگر نجاست گرجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب و ھو الھادی والصواب
1۔ حوض کبیر وہ حوض ہے جو دہ در دہ ہو یعنی دس ہاتھ لنبا، دس ہاتھ چوڑا، یوں ہی بیس ہاتھ لنبا ، پانچ ہاتھ چوڑا ، یا پچیس ہاتھ لنبا ، چار ہاتھ چوڑا غرض کل لنبائی چوڑآئی سو ہاتھ ہو نیز موجودہ 225 مربع اسکوائر فٹ ہو تو وہ بڑا حوض ہے ۔
2- بڑے حوض میں اگر ایسی نجاست گری جو نظر نہ آرہی ہے مثلا پیشاب ، خون ، شراب وغیرہ تو اس کے چاروں طرف غسل و وضو جائز ہے بصورت دیگر اگر ایسی نجاست گر گئی جو مرئیہ ہےے اور اس کے اوصاف ثلاثہ میں سے کوئی ایک وصف بھی نہیں بدلا تو پاک ہے اور اس کے دوسرے کنارے سے غسل و وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر کوئ وصف تبدیل ہو گیا تو ناپاک ہے۔
3 - حوض صغیر وہ حوض ہے جو دہ در دہ یعنی 225 اسکوائر فٹ سے کم ہو۔۔
4 - چھوٹے حوض میں اگر تھوڑی سی بھی نجاست گر جاۓ تو پورا پانی ناپاک ہوجاۓے گا خواہ رنگ مزہ، بو بدلے یا نہ بدلے۔واللہ اعلم بالصواب ( بدائع الصنائع ، فتاوی رضویہ )
کتبہ
فقیر اشرفی
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا ۔ 46
Sawalaat :
27- Bara hauz kise kahte hain?
28- Bare hauz me nijasat girjaye to uska kya hukm hai?
29- chota hauz kise kahte hain?
30- chote hauz me agar
nijasat gir jaye to uska kya hukm hai?
Jawabaat:
27- Hauz e kabeer woh hauz hai jo dah dar dah ho yani 10 haath lamba, 10 haath chaura, yunhi 20 haath lambba, 5 haath chaura, ya 25 haath lamba, 4 haath chaura gharz kul lambai chauraaui 100 ho neez maujoodah 225 murabba square feet ho to woh bara hauz hai.
28 - bare hauz me agar aisi nijasat giri jo nazar na aa rahi hai masalan peshaab, khoon, sharaab waghaira to uske charoon taraf ghusl o wazu jaiz hai basoorat e digar agar aisi nijasat gir gayi jo maryiya hai aur uske ausaaf e salasa me se koi ek wasf bhi nahi badla to paak hai aur uske dusare kinare se ghusl o wazu karne me koi harj nahi aur agar koi wasf tabdeel ho gaya to na'paak hai.
29 - hauz e sagheer woh hauz hai jo dah dar dah yani 225 square feet se kam ho.
30 - Chote hauz me agar thori si bhi nijasat gir jaye to poora pani na'paak ho jayega khwaah rang mazah, boo badle ya na badle.
Wallahu Aalamu Bissawab.
Faqeer Ashrafi
Md wasim khan asshrafi
مصنف: محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا ۔ 46
زمرہ: نجاست کا حکم
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 16-12-2024
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.