29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

اقتباسات کی فہرست

Home

 اگر نجاست کا اثر پانی میں ظاہر ہو جاے تو اس کا کیا حکم ہے۔۔۔۔۔۔؟؟

جواب: اگر نجاست کے گرنے کی وجہ سے اوصاف ثلاثہ میں سے کوئی ایک وصف بھی تبدیل ہوگیا تو پانی ناپاک ہو جاے گا بصورت دیگر(اوصاف ثلاثہ میں سے کوئی ایک وصف بھی تبدیل نہیں ہوا تو) پانی ناپاک نہیں ہوگا۔۔

وبتغیر أحد أو صافه من لون أو طعم أو ریح بنجس الکثیر و لو جاریا اجماعا۔(درمختار مع الشامی بیروت جلد اول ) إذا لاقى الماءَ نجاسةٌ، فغيَّرَت أحَدَ أوصافِه: مِن طَعمٍ، أو لونٍ، أو رائحةٍ؛ فهو نجِسٌ، قليلًا كان أو كثيرًا.

(الموسوعة الفقھیة، کتاب الطھارة) والله أعلم بالصواب

كتبه

محمد وسیم أصغر خان اشرفی جالوی عفی عنه

دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ کولکاتا ۴۶


Sawal (26): Agar Nijaasat ka asar pani mei'n zaahir ho jaye to uska kiya hukm hai...?

*Jawab* : Agar Nijaasat ke girne ki wajah se ausaafe salasa mei'n se koi ek wasf bhi tabdeel ho gaya to pani na-pak ho jayega basoorat e digar (ausaafe salasa mei'n se koi ek wasf bhi tabdeel nahi hua to) pani na-pak nahi'n hoga.

وبتغیر أحد أو صافه من لون أو طعم أو ریح بنجس الکثیر و لو جاریا اجماعا۔(درمختار مع الشامی بیروت جلد اول ) إذا لاقى الماءَ نجاسةٌ، فغيَّرَت أحَدَ أوصافِه: مِن طَعمٍ، أو لونٍ، أو رائحةٍ؛ فهو نجِسٌ، قليلًا كان أو كثيرًا.(الموسوعة الفقھیة، کتاب الطھارة)


 Wallahu Alamu Bissawab

Faqeer Ashrafi 

muhammad wasim asghar khan ashrafi 

Qaderi Samnani Darul ifta kolkata. 700046

مصنف: محمد وسیم أصغر خان اشرفی جالوی عفی عنه

زمرہ: نجاست کا اثر

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 10-12-2024

اللہ تبارک و تعالی کا بے پناہ احسان و شکر ہے کہ اس نے ہماری رہنمائی کے لیے انبیاء کرام ا ور رسولان عظام کو مبعوث فرمایا  یہاں تک اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے خاتم النبیین بناکر بھیجا ،چنانچہ نہ آپ کے زمانے میں اورنہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی و رسول نہیں آسکتا مگر یہ بات قابل غور و فکر ہے کہ وہ ہدایت و رہنمائی کا کام جو انبیاء کرام و رسولان عظام کر رہے تھے آقا علیہ السلام کےبعد

 بھی اس کی ضرورت باقی تھی اور جب تک انسان آتے رہیں گے ضرورت باقی رہے گی ،اس لیے اس کام کے لیے ہر دور میں ان کے نائبین آتے رہیں گے اور جب جب قوم کو ضرورت ہوئی تب تب اللہ رب العزت نے اس قوم کی رہنمائی کے لیےرہبر عطا فرمایا مثلا بعد سرکار منکرین زکاۃ وغیرہ کا جب فتنہ کھڑا ہوا تو اس کی سرکوبی کے لیے حضرت صدیق اکبر و جمیع صحابہ کھڑے ہوئے،جب یزیدی فتنہ اٹھا تو اس کی سرکوبی کے لیے نواسہ رسول حضرت امام حسین پاک عطا کیے گئے ،جب لوگوں نے اپنی طبیعت سے مسئلہ نکالنا شروع کر دیا تو امام اعظم ابوحنیفہ جیسے مجتھدین عطا کئے گئے اور جب عوام و خواص نفس پرستی کے شکار ہوئے تو لوگوں کو اس سے نجات دلانے کے لئے غوث اعظم عطا کیے گئے جب بر صغیر ہند و پاک وغیرہ میں اسلام کی خدمت و نصرت، رشد و ہدایت کا وقت آیا تو غریب نواز عطا کیے گئے، سرکار مخدوم پاک کچھوچھوی عطا کیے گئے ،یہ سلسلہ اسی طر ح چلتا رہا  یہاں تک کہ کچھ ملت فروشتوں نے عالموں کالبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو بہکانے اور ان کوکافر و مرتد بنانے کی ناپاک کوشش کی اور سرکار کی ذات کو ،سرکار کی عظمت و رفعت ، شرافت و صداقت علم وحکمت وغیرہ پر ناپاک حملے شروع کردیے تو اللہ عزوجل نے اپنے محبوب کے صدقہ میں امت محمدی کو کچھوچھہ مقدسہ میں سرکار علی حسین اشرفی میاں تو بریلی شریف میں امام احمد رضا عطا فرمایا سیدی اعلی حضرت نے اپنے علم و عمل ، تحریر و تقریر ، درس و تدریس کے ذریعہ اسلام کی  ایسی خدمت فرمائی کے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ آپ نے قوم کو جہاں محققین و مصنفین ، مفسرین و محدثین وغیرہ عطا فرمایا وہیں آپ نے کتابوں کی شکل میں نایاب عظیم علمی خدمات انجام دیں مگر ضرورت ایک ایسے علمی کار خانہ کی تھی جس میں ایسے کامیاب افراد کو نکالاجائے جو تعلیمات رضا و فیض رضا کو چپہ چپہ قصبہ قصبہ قریہ قریہ ملک ملک ڈگر ڈگر نگر نگر گھر گھر لے جائے تو بغیر مبالغہ کے یہ حق بات کہی جاسکتی ہے کہ جس نے تعلیم رضا کو گھر گھر پہنچانے والے کو تیار کرنے کے لیے علمی کارخانہ بنایا اسی ہستی کا نام حافظ ملت ہے اور سرکار حافظ ملت علیہ الرحمہ جب مبارک پور تشریف لائے مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم میں تو کوئی دھن و دولت لیکر نہیں آئے تھے بلکہ رسول و آل رسول کے فیض و برکات سے اپنے قلوب و اذہان ، فکر ونظر کو معمور کرکے آئے تھے اسی لیے لاکھ مخالفین ہوئے کیسی کیسی مصیبت آئی مگر آپ کے عظیم عزم مصمم میں لغزش نہ پیدا کر سکی آپ دن میں تیرہ تیرہ کتابوں کا درس دیتے، رات میں گستاخان خدا و رسول کے اعتراضات کا رندہ شکن جواب دیتے، مثلا علامہ یاسین اختر مصباحی علیہ الرحمہ مبارک پور میں سرکار حافظ ملت کی تشریف آوری وعظ و نصیحت ، تحریر و تقریر اور مخلصانہ دینی  خدمات کے بارے قلم طراز ہیں :  مبارک پور جامع مسجد راجہ مبارک شاہ اور قصبہ کے ایک بااثر شخصیت حاجی محمد عمر کے یہاں ہونے والی تقریروں کا چرچہ ہوا مخالفت کمیٹی میں کھلبلی مچ گئی اور مولوی شکر اللہ مبارک پوری کی جوابی تقریر ہوئی عوام نے آپ سے جواب الجواب کی فرمائش کی آپ نے فرمایا میں یہاں کام کر نے آیا ہوں اگر جوابوں میں الجھ گیا تو اصل کام میں رخنہ پڑے گا یہ جوابی سلسلہ نہ شروع کیا جائے لیکن عوامی اصرار کو دیکھتے ہوئے آپ نے بھی جوابی تقریریں کی اس کے بعد مناظرانہ تقریروں کا سلسلہ ایسا شروع ہواکہ پورے چار ماہ تک چلتا رہا حافظ ملت علیہ الرحمہ دن میں تیرہ اسباق پڑھاتے تھے رات میں جوابی تقریریں کرتے تھے اس محنت و مصروفیت کو دیکھتے ہوئے مخلصین نے عرض کیا کہ باہر سے علماء و خطبا کو مدعو کرکے ان کی تقریریں کرائی جائے لیکن آپ نے ارشاد فرمایا میں اس خدمت کے لیے تنہا کافی ہوں ایسے ہی ایک پر ہجوم جلسہ کی تقریر سننے کے بعد مبارک پور کے داروغہ صحیم احمد نے کھڑے ہو کر بر ملا کہا مجھے عہدہ کے لحاظ سے کچھ کہنا نہیں چاہیے لیکن میں کچھ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ میں دونوں طرف کے جلسوں میں شریک ہو کر تقریر سنتا رہا اب مجھے یہ کہنے میں کوئی خوف نہیں کہ حق آپ کے ساتھ ہے اور میں آپ کے فتح کا اعلان کرتا ہوں اور یہ کیا تھا آل رسول کا فیض ہی تو تھا کیوںکہ آپ صرف ظاہری نام لینے والے نہیں تھے بلکہ آپ کا ظاہر و باطن سب اس نفوس قدسیہ پر قربان تھا اور قربان کیوں نہ ہوجب کہ آپ نے جس مقدس شخصیت سے علم و ادب کا سوغات لیا وہ ذات کسی اور کی نہیں تھی بلکہ نگاہ رضا سے جامۂ محبت پی کر سارے عالم میں درس محبت بانٹنے والی ذات تھی جسے صدر الشریعہ کہا جاتا ہے اور آپ نے اپنے آپ کو جس ولی کامل کے دست مبارک پر پیش کر دیا اس ذات والاکا نام ہم شبیہ غوث اعظم سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں ہیں ۔ حضور سید العلما علیہ الرحمہ نے اشرفیہ کے تعلیمی کانفرنس میں فرمایا تھا کہ اشرفیہ اور حافظ ملت کے ساتھ آل رسول ہیں اور جس کے ساتھ آل رسول ہیں اس کے ساتھ رسول پر نور علیہ وآلہ وسلم ہیں ضرورت پیش آئی تو آل رسول اپنے مریدین و مخلصین کو ساتھ لیکر اس کے لیے ہرطرح کی قربانیاں پیش کرے گا یہی تو وجہ ہے کہ آپ اشرفیہ اور اس کی خدمتوں پر نظر ڈالیں گے تو یہ بات آپ پر عیاں ہو جائے گی کہ آج خانقاہوں کے سجادہ نشیں ہوں یا دار الافتاؤں کے مسند نشیں ہوں میدان صحافت و خطابت کے شہسوار ہوں یا درس و تدریس کے علمی میناروں کی زینت ہوں اسی فیصد حضرات واسطہ یا در واسطہ اشرفیہ ہی کے فرزندوں میں اور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے فیض علمی سے فیضیاب ہو کر سارے عالم کو فیضیاب کر رہا ہے کہیں اور کہیں جانے کی ضرورت نہیں صرف بنگال ہی پر نظر ڈالیں یہاں علمی خدمت کرنے والے ادارے و عشق رسول کی ضیا روشن کرنے والے علما اور علم و ادب کی رمق کو تازگی بخش نے والے اساتذہ کو دیکھیں تو ان میں نمایا حافظ ملت ہی کے فیض یافتہ نظر آئیں گے۔ اللہ پاک سرکار حافظ ملت علامہ عبد العزیز اشرفی علیہ الر حمہ کے علمی فیضان سے ہر خاص و عام کو فیضیاب فرمائے اور ان کے مشن میں شبانہ روز ترقیاں عطا فرمائے۔ آمین

 


مصنف: از محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ ، قادری سمنانی دار الافتا تلجلا روڈ کولکاتا

زمرہ: حافظ ملت

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 07-12-2024

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اگر زید غیر مسلموں کے میلے میں جاتا ہو اور پوجاپر مبارکبادی پیش کرتا ہو تو اس پر شریعت کا کیا حکم نافذ ہوگا جواب عطا فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

المستفتی : شیخ محمد نور عالم توپسیا کولکاتا ۔

www.qewt.in


وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب ھو الھادي و الصواب

صورة مسئولہ میں زید کا غیر مسلموں کے میلےاورتہواروں میں شریک ہوکران کےمیلےاوران کےمذہبی جلوس کی شان وشوکت بڑھاناکفرہے اور اس پر مبارک بادی دینا بھی عندالفقھاءکفر ہے۔لھذازید پر توبہ وتجدیدایمان اور شادی شدہ ہے تو تجدیدنکاح بھی ضروری ہے۔ حدیث پاک میں ہے " من کثّر سواد قوم فھو منھم " جس شخص نے کسی قوم کی جماعتی تعداد میں اضافہ کیا تو وہ انہی میں سے ہے ۔Ji (فتاوی رضویہ ) واللہ اعلم بالصواب

کتبہ

فقیر اشرفی

محمدوسیم خان اشرفی جالوی

قادری سمنانی دارالافتا ۔ کولکاتا 46۔



Assalam u Alaikum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuh.


Kya farmate hain Ulama e kiram wa Muftiyane izam is mas'alah mei'n ke agar zaid ghair muslimon ke mele mei'n jata ho aur poojha par mubarak badi pesh karta ho to usparshareeat ka kiya hukm na'fiz hoga jawab ata farma kar shukriya ka mauqa inayat farmayein.

 shareeat ka kiya hukm na'fiz hoga jawab ata farma kar shukriya ka mauqa inayat farmayein.


Almustafti : Sk Muhammad Noor Alam Topsia kolkata.


www.qewt.in


Wa Alaikum Assalam wa Rahmatullahi wa Barakatuh

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب ھو الھادي والصواب

soorat e mas'oolah mei'n zaid ka ghair muslimon ke mele aur tahwaron mei'n sharik hokar unke mele aur unke mazhabi juloos ki shan o shaukat barhana kufr hai ar uspar mubarakbadi dena bhi indal'fuqahaa kufr hai. Lihaza zaid par tauba wa tajdid e imaan aur shadi shuda hai to tajdeed e nikaah zaruri hai. Hadis e pak mei'n hai.

" من کثر سواد قوم فھو منھم"

jis shakhs ne kisi qaum ki jama'ati tadaad mei'n izafa kiya to woh unhi mei'n se hai. ( fatawa rizwiya) wallahu aalamu bissawab.

Faqeer ashrafi

Muhammad wasim khan ashrafi jalwi.


مصنف: محمدوسیم خان اشرفی جالوی

زمرہ: شریعت کا حکم

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 30-11-2024

ان الله عز وجل احد صمد لا شریک له ولا سهيم و لا يتغير ولا ينصرفُ عن جلال ذاته القديم و هو مستوٍ علی العرش بکمال صفاته العظیم و ھو ربنا و رب العلمین و رب کل شيء و ھوالذي خلق السموات و الارض و جعل القمر فیھن نورا و جعل الشمس سراجا و ھو الذي خلق اللیل و النھار و النجوم والجبال و الشجر و الدواب ویاتي بالشمس کل یوم من المشرق و بالقمر من المغرب و یجعل الناس في ارحام امھاتھم کیف یشاء عز وجل و قال تعالی في کتابه العظیم و خطابه القدیم “ ھو الذى یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا اله الا ھو العزیز الحکیم “ {ھذہ الایة المذکورۃ في الجزء الثالث من سورۃ آل عمران }

و قال تعالی في مقام آخر “ یاایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ و خلق منھا زوجھا و بث منھما رجالا کثیرا و نساء “ { و ھذہ الآیة في الجزء الرابع من سورۃ النساء }

و الله سمیع علیم بذات الصدور و ھو حي قیوم لا یموت، و هو ازلي و ابدي لابدایة لوجودہ ولانھایة له و منزہ عن الزمان و المکان و النقص والعیب والولد والوالد والاکل والشرب والسِنة والنوم وجاء في القرآن المجید و الفرقان الحمید “ قل ھو الله احدٌ الله الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن له کفوا احد” ﴿الاخلاص ﴾ قال عز وجل : “لوکان فیھما آلھة الا الله لفسدتا ۰ فسبحٰن الله رب العرش عما یصفون “ ﴿ الانبیاء ﴾ قال القرطبي في تفسیر هذه الآیة : “ أي لوکان في السموات والارضین آلھة غیر الله معبودون لفسدتا “ ۰ و قال غیرہٗ : “ أي لوکان فیھما اِلٰھان لفسد التدبیر ، لأن أحدھما اِن أراد شیأ و الآخر ضدہ کان أحدھما عاجزا “ وھو الله قادر علی کل شيء قدیر ۰ وقال ربنا الکریم : “ بل أتینھم بالحق و انھم لکذبون ۰ مااتخذ الله من ولد وما کان معه من اله اذا لذھب کل اله بما خلق ولعلا بعضھم علی بعض ۰ سبحان الله عما یصفون “ ﴿ المؤمنون ﴾

یا ربنا انت مولانا انت الرحمن، أنت الرحیم اِرحم علی حالنا انت الغفار اغفر ذنوبنا و کفر عن سیئاتنا و فضلک الکبیر وشانک العظیم و ذاتک القدیم و كرمك العمیم و نسئلک رزقا واسعا وعلما نافعا و عمرا صالحا و فھما كاملا و عقلا سلیما و قضاء حسنا بحرمة سید الکونین و جد الحسن والحسین صلی الله علیه و آله وسلم و رضي الله عنھما ۔


العبد العاصي

محمد وسیم اصغر خان الاشرفي الجالوي

الامام: في المسجد المحبوب الرحماني ، الناظم : دارالعلوم الأشرفیۃ القطبیۃ ،

ألواقعۃ : علی شارع تلجلا ( بنجابی بارہ ) کولکاتا ۷۰۰۰۴۶

مصنف: محمد وسیم اصغر خان الاشرفي الجالوي

زمرہ: باسمه تعالی و تقدس

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 30-11-2024

سوال (٢٥): کچھ لوگ ٹھنڈی میں مفلر یا کپڑے سے کان کے ساتھ ساتھ داڑھی اور منہ کو بھی چھپا لیتے ہیں تو کیا یہ صحیح ہے یا غلط؟


جواب : غلط ہے ، کان چھپا کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، داڑھی اور منہ چھپا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔حدیث شریف میں ہے: "نھی رسول الله ﷺ عن تغطیة الفم و اللحیة" در مختار اور دیگر کتب فقہ میں ہے : " لأنه يشبه فعل المجوس حال عبادتهم النيران" کیونکہ یہ مجوس کے اپنی عبادت کے وقت کیے جانے والے کے مشابہ ہے ۔ ( شامی ، جلد 2، صفحہ 511) والله اعلم بالصواب

كتبه

فقير اشرفى

محمد وسيم خان اشرفى جالوى

قادرى سمنانى دار الإفتاء كولكاتا


*Sawal (25):* Kuch log thandi me muflar ya kapre se kaan ke saath saath darhi aur munh ko bhi chupa lete hain to kya ye sahih hai ya ghalat ?


*Jawab :* Ghalat hai, kaan chupakar namaz parhne me koi harj nahi, darhi aur munh chipakar namaz parhna makrooh hai. Hadees shareef me hai :

" نھی رسول الله ﷺ عن تغطیة الفم و اللحیة"

durr e mukhtar aur digar kutub e fiqh me hai :

" لأنه يشبه فعل المجوس حال عبادتهم النيران"

Kyuke ye majoos ke apni Ibadat ke waqt kiye jaane ke mushabeh hai.

۔ ( شامی ، جلد 2، صفحہ 511) والله اعلم بالصواب


Faqeer Ashrafi

Md Wasim Khan ashrafi jalwi

Qaderi samnani Darul ifta Kolkata

مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا

زمرہ: کان اور منہ چھپاکر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 27-11-2024

الحمد لله الذي خلق من الماء بشرا فجعله نسبا و صهرا، وجعل النكاح مودة و رحمة و بِرا ، و هدانا الی كلام الهدى و التقى، ونشھد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الأسماء الحسنى ،و نشهد أن سيدنا و حبیبنا وشفيعنا محمداً عبد الله و رسولُه، والصلاة والسلام على حبيبه المصطفى ، و رسوله المجتبى ، و نبيه المرتضى ، و على آله التقى و النقى ،وأصحابه الذین ھم ذوو الصفا والهدى

وبعد! فیایھا الإخوۃ المومنون! اعلموا أن النكاح من أعظم عبادة و أجل نعمةمن نعم الله تعالی،وھو سببُ الفلاحِ والنجاحِ والمودةِ والراحةِ والاولاد الصالحة و خدمة الدین و الشریعة الاسلامیة والسكینة،والعفة،فیه غَضٌّ لِلْبَصَرِ،وَحصْنٌ لِلْفَرْجِ،وعون علی تقوی الله تعالیٰ وطاعته،وھو من سنن الفطرۃ ومن سنن الأَنبياء والمرسلين،قال الله عزوجل فی کتابه الکریم:اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً} [سورة النساء].يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته و لا تموتُنَّ اِلَّا و أنتمْ مُّسلمُونَ. يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا. يصلح لكم أعمالكم و يعفر لكم ذنوبكم و من يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما.يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ. وقال الله تبارك و تعالى عز وجل في فضيلة الصلاة على النبي المختار.. إن الله وملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما. لبيك اللهم ربنا و سعديك اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا و مولانا محمدن الذي كان عليا في درجاته فاطما في تطهيراته حسنا في صفاته شهيداً في تجلياته زين العابدين بعباداته باقرا في علم الأولين و الآخرين بمعلوماته صادقاً في أقواله كاظما في جميع أحواله متمكنا في مقام الرضا جواداً كفه عند العطا هاديا إلى سبيل النجاة عسكرياً مع الغزاة مهديا إلى طريق اليقين يا غياث المستغيثين صلوات الله عليه و عليهم أجمعين.

وقد رغب رسول الله صلى الله عليه وآله وصحبه وسلم في النكاح وقال : "التمسوا الرزق بالنكاح"و قال النبي صلى الله عليه وسلم: "يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ“ وعن النبي صلى الله عليه وسلم قال‏: "‏تنكح المرأة لأربع‏:‏ لمالها، ولحسبها، ولجمالها، ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك‏"‏ ‏.وقال رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم:”الدنیا کلھا متاع و خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحة“وقال صلى الله عليه وسلم النكاح من سنتي فمن لم يعمل بسنتي فليس مني.

يا إخواني الکرام و یا جماعة المسلمين! أوصیکم و نفسي بتقوی الله عزوجل فی السر والعلن و اشكروا لله على نعمائه الشاملة و آلائه الكاملة في كل زمان و مكان.نسئل الله تعالی أن یبارك لناوللمتزوجین و للحاضرین و لأھل ھذا المجلس کلھم أجمعین،اللھم ربنا و ھب لنا من أزواجنا و ذریاتنا قرة أعین و اجعلنا للمتقین إماما،سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين۔

مصنف: بقلم : محمد وسیم اصغر خان الاشرفي الجالوي دار العلوم اشرفيه قطبيه ، قادري سمناني دار الإفتاء كولكاتا

زمرہ: خطبة النکاح

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 22-11-2024

مسئلہ(٢٤): مقتدی امام کو سجدہ کی حالت میں پائے تو کیا کرے؟


جواب: صورة مسئولہ جب دوران نماز کوئی شخص (مسبوق ) شامل ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ امام کو جس حالت میں پاۓ تکبیرتحریمہ کھڑے کھڑے کہہ کر دیگر تکبیر کے ساتھ اسی رکن میں شامل ہو جاۓ یعنی سجدہ کی حالت میں امام کو پانے والا مقتدی تکبیر تحریمہ کے بعد بغیر توقف کے دوسری تکبیر کہہ کر سجدہ میں چلا جاۓ اور وہ رکعت امام کے سلام کے بعد ادا کرنا لازم ہوگا ۔ حدیث پاک میں ہے " قال رسول الله ﷺ اذا اتی احدکم الصلاة والامام علی حال فلیصنع کما یصنع الامام" یعنی جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے آئے اور امام جس حالت میں ہو، تو وہ شخص بھی وہی کرے ، جو امام کررہا ہے۔ جامع الترمذي ، باب ماذکر في الرجل یدرک الامام و ھو ساجد کیف یصنع ، مطبوعہ بیروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے :” والاظهران معناه اذا جاءاحدكم الصلاة والامام على حال اي من قيام او ركوع او سجود او قعود فليصنع كما يصنع الامام اي فليقتد به في افعاله ولا يتقدم عليه ولا يتأخر عنه وقال ابن الملك اي فليوافق الامام فيما هو فيه من القيام او الركوع او غير ذلك يعني فلا ينتظر رجوع الامام الى القيام كما يفعله العوام“ ۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد3، صفحہ 200)

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

فقیر اشرفی

محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی

قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا


Mas'ala(24):

Muqtadi Imam ko sajda ki halat me paye to kya kare.?


Jawab: Soorat e masoolah jab daurane namaz koi shakhs (Masbooque) shamil ho to uska hukm ye hai ke woh Imam ko jis halat me paye takbeer e tahreema khare khare kah kar digar takbir ke saath usi rukn me shamil ho jaye yani sajda ki halat me imam ko pane wala muqtadi takbire tahrima ke bad beghair tawaqquf ke dusari takbir kah kar sajda me chala jaye aur woh rak'at imam ke salam ke bad ada karna lazim hoga. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال فليصنع كما يصنع الإمام " yani jab tumme se koi namaz ke liye aaye aur imam jis halat me ho , to woh shakhs bhi wahi kare. Jo imam kar raha hai. ( Tirmizi Sharif )


Mirqatul'mafateeh me hai : " والاظهر أن معناه إذا جاء أحدكم الصلاة والإمام على حال أي من قيام أو ركوع أو سجود أو قعود فليصنع كما يصنع الإمام اي فليقتدبه في أفعاله ولا يتقدم عليه ولا يتأخر عنه وقال إبن الملك أي فليوافق الإمام فيماهو فيه من القيام أو الركوع أو غير ذلك " ( Mirqaatul mafateeh , 3 ) Wallahu aalamu bissawab

Faqeer ashrafi

Muhammad Wasim Khan ashrafi jalwi

Qaderi samnani Darul ifta Kolkata. 46

8013565611

مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا

زمرہ: مقتدی امام کو حالت سجدہ میں پاۓ تو کیا کرے؟

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 13-11-2024

9o سوال نمبر: 23

طہارت و نجاست کے اعتبار سے پانی کی کتنی قسمیں ہیں۔۔؟؟


*الجواب بعون الملک العزیز ا لوھاب و ھو الھادي و الصواب صورة مسئولہ میں طہارت و نجاست کے اعتبار سے پانی کی پانچ قسمیں ہیں۔*

1۔ طاہر مطہر غیر مکروہ یعنی وہ پانی جو خود پاک ہو اور پاک کرنے والا ہو ۔ جیسے: ماء مطلق جس میں کوئی دوسری چیز شامل نہ ہو۔


2۔ طاہر مطہر مکروہ: یعنی وہ ماء قلیل جس سے بلی یا اس جیسے جانور نے پانی پیا ہو۔( اس کا حکم یہ ہے کہ اگر دوسرا غیر مکروہ پانی موجود ہو تو اس پانی کو استعمال کرنا مکروہ تنزیہی ہے ، اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا پانی نہیں تو اس سے پاکی حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں)۔


3۔ طاہر غیر مطہر: یعنی وہ پانی جو حدث کو دور کرنے یا حصول ثواب کے لیے استعمال کیا گیا ہواور وہ خود پاک ہو لیکن حدث کو پاک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہو۔


4۔ ماء نجس یعنی وہ پانی جس میں نجاست گرجاے اور وہ ٹھہرا ہوا ماء قلیل ہو،اور اگر ماء کثیر ہے تو نجاست کا حکم اس وقت ہوگا جب کہ نجاست کا اثر پانی میں ظاہر ہو جاے۔

5۔ ماء مشکوک: یعنی ایسا پانی جس کے پاک کرنے میں شک ہو یہ وہ پانی ہے جس سے گدھا یا خچر نے پیا ہو۔

*أماالمیاہ على خمسة أقسام: طاهرٌ مطهرٌ غير مكروهٍ: و هو الماء المطلق: و طاهر مطهر مكروه: و هو ما شرب منه الهرة و نحوها وكان قليلا۔ و طاهرٌ غيرُ مطهرٍ: و هو مااستعمل لرفع حدث أو لقربة كالوضوء على الوضوء بنيته الخ..........والرابع: ماءٌ نجسٌ: وهو الذي حلت فيه نجاسة وكان راكدا قليلا الخ..... والخامسُ: ماءٌ مشكوكٌ في طهوريته، و هو ما شرب منه حمار أو بغلٌ. [ نور الإيضاح، كتاب الطهارة١٩]* واللہ عندہ حسن الصواب

کتبہ

فقیراشرفی

محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی

قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا ۔ 46


Sawal:23۔

Tihaarat o Nijasat ke aetebaar se pani ki kitni qismei'n hain.. ?


Jawab : Tihaarat o Nijaasat ke aetebaar se pani ki 5 qismei'n hain.


1. Tahir mutahhir ghair makrooh yani woh pani jo khud pak ho aur pak karne wala ho. Jaise Maaye mutlaque jisme koi dusri chiz shamil na ho.

2. Tahir mutahhir makrooh: yani woh maaye qaleel jisse billi ya us jaise janwar ne pani piya ho.(uska hukm ye hai ke agar dusra ghair makrooh pani maujood ho to us pani ko istemaal karna makrooh e tanzeehi hai, agar us ke alawa koi dusara pani nahi, to usse paki hasil karne mei'n koi haraj nahi).

3. Tahir ghair mutahhir: yani woh pani jo hadas ko door karne ya hosool e sawab ke liye istemaal kiya gaya ho aur woh khud pak ho lekin hadas ko paak karne ki salahiyat nahin rakhta ho.

4. Maae najis yani woh pani jisme Nijaasat gir jaye aur woh thehra hua maae qaleel ho, aur agar maae kaseer hai to Nijaasat ka hukm us waqt hoga jab ke nijasat ka asar pani me zahir ho jaye.

5. Maae mashkook: yani aisa pani jiske pak karne mein shak ho ye woh pani hai jis se gadha ya khachchar ne piya ho.


Faqir ashrafi

Md Wasim khan asrafi jalwi

qaderi samnani darul ifta. Kolkata.46

مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا

زمرہ: طہارت و نجاست کے اعتبار سے پانی کی قسمیں۔۔۔۔؟؟؟

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 08-11-2024

سوال (٢٢): اللہ میاں کہنا کیسا ہے ؟

جواب: اللہ تعالیٰ کو لفظ میاں کے ساتھ پکارنا یعنی اللہ میاں کہنا منع ہے ، کیوںکہ لفظ میاں کے تین معانی ہیں، آقا، شوہر اور زنا کا دلال ۔ ذات باری تعالیٰ کے لیے ایسے کسی لفظ کی نسبت کرنا درست نہیں ہے جس میں اس کی شان کے نامناسب معنیٰ کا شائبہ موجود ہو۔ جو لفظ دو خبیث معنوں اور ایک اچھے معنی میں مشترک ٹھہرا تو ایسے لفظ کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر ممنوع ہوگا۔ ( فتاویٰ رضویہ جدید، الملفوظ حصہ اول ) قرآن شریف میں:ولله الأسماء الحسنیٰ فادعوہ بھا و ذروا الذین یلحدون فی اسمائہ سیجزون ما کانوا یعملون ۔ (سورہ اعراف)۔ ھذا ماظھرلي من العلم و الله عندہ حسن الصواب



فقیر اشرفی

محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی

قادری سمنانی دالافتا کولکاتا


Sawal(22): Allah miya'n kahna kaisa hai?


Jawab: Allah ta'ala ko lafze "miya'n " ke sath pukarna yani Allah miya'n kahna mana hai. Kyuke lafze "miya'n " ke tin maa'ne hain. Aaqa. Shauhar aur zana ka dalaal. Zate bari ta'ala ke lye ayse kisi lafz ki nisbat karna durust nahi'n hai jisme ki shan ke na munasib maa'na ka shaaiba maujood ho. Jo lafz do khabees ma'no aur ek acche ma'na mei'n mushtarak tehra ho to aise lafz ka itlaaq zate bari ta'ala par mamnoo hoga. (fatawa rizwiya jadid, almalfooz hissa 1) Qur'aan sharif mei'n hai " ولله الأسماء الحسنیٰ فادعوه بها و ذروا الذين يلحدون في أسمائه سيجزون ما كانوا يعملون" (سوره أعراف )wallahu aalamu bissawab

Faqeer ashrafi

Md Wasim Khan ashrafi jalw qadri samnaani darul ifta

Kolkata

مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا

زمرہ: مسئلہ (22) اللہ میاں کہنا کیسا ہے؟

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 04-11-2024

دعائے قنوت کے بعض ضروری مسائل

www.qewt.in

سوال:(15) دعائے قنوت کیاہے ؟

جواب: دعائے قنوت یہ ہے:

اَللَّهُمَّ اِنَّانَسۡتَعِيۡنُكَ وَنَسۡتَغْفِرُكَ وَنُؤۡمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيۡكَ وَنُثۡنِىۡ عَلَيۡكَ ٱلۡخَيۡرَ وَنَشۡكُرُكَ وَلَا نَكۡفُرُكَ وَنَخۡلَعُ وَنَتۡرُكُ مَنۡ يَّفۡجُرُكَ. اَللَّهُمَّ اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَلَكَ نُصَلِّی وَنَسۡجُدُ وَاِلَيۡكَ نَسۡعٰى ونَحۡفِدُ ونَرۡجُوۡا رَحۡمَتَكَ وَنَخۡشٰى عَذَابَكَ اِنَّ عَذَابَكَ بِالۡكُفَّارِ مُلۡحِقٌ

ترجمہ : اے اللہ ! بےشک ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش چاہتے ہیں ، تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں ، تیری اچھی تعریف کرتے ہیں ، تیرا شکر ادا کرتے ہیں ،تیری ناشکری نہیں کرتے ، اور ہم جداہوتے اور چھوڑ دیتے ہیںاسےجو تیری نافرمانی کرے۔ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں ، تیرے ہی لیے نماز پڑھتے ہیں ، تجھی کو سجدہ کرتے ہیں ۔ تیری ہی طرف دوڑ تے اورلپکتے ہیں ، ہم تیری رحمت کے امید وار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بےشک تیرا عذاب کافروں کو پہنچ کر رہے گا۔

سوال:(16) دعائے قنوت کس وقت پڑھیں؟

جواب: وتر کی تیسری رکعت میںالحمدشریف اورکسی سورت کی تلاوت سے فارغ ہوجائیں تو رکوع میں جانے سے پہلے دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے۔

سوال:(17) دعائے قنوت یاد نہ ہو تو کیا کریں؟

جواب: دعائے قنوت یاد نہ ہو تو یاد کریں اور جب تک یاد نہ ہو ، اس کی جگہ یہ پڑھ لیاکریں :

رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ

اے ہمارے پروردگار! ہمیں عطا فرما دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھلائی اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔

سوال: (18)اگر یہ دعا بھی نہ یاد ہو توکیاکریں؟

جواب: اگر یہ دعا بھی نہ یاد ہو تو تین مرتبہ''اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلی'' پڑھ لیں اور یہ بھی یادنہ ہو، تو تین دفعہ''یارَبِّ'' کہہ لیں۔

سوال:(19) کیادعائے قنوت یاد نہ ہونے کی صورت میں ان کلمات کوپڑھ لینے سے دعائے قنوت کاثواب حاصل ہوجائے گا؟

جواب: ان کلمات کوپڑھ لینے سےدعائے قنوت پڑھنے کاواجب ادا ہوجائے گا، لیکن جو مسنون الفاظ دعائے قنوت میں ہیں ، ان کی فضیلت حاصل نہ ہوگی۔

سوال:(20) کیادعائے قنوت کی جگہ ہمیشہ ان کلمات کو پڑھ سکتے ہیں؟

جواب: یہ کلمات اس وقت تک کے لیے ہیں جب تک دعائے قنوت یاد نہ ہو ، یہ نہ ہو کہ اسی پر اکتفا کر لیا جائے اور قنوت یاد نہ کیا جائے بلکہ دعائےقنوت یاد کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے۔

سوال:(21)دعائے قنوت پڑھنا بھول جائیں تو کیاکریں؟

جواب: دعائے قنوت پڑھنا بھول جائیں اور رکوع میں جانے کے بعد یاد آئے تو واپس نہ لوٹیں، بلکہ اخیر میں سجدۂ سہو کر لیں ۔ واللہ اعلم بالصواب

(ملخصا:البحر الرائق ، کتاب الصلاۃ ، فتاوی رضویہ جد 7 صفحہ 485 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ۔ لاہور)


کتبہ، فقیر اشرفی

محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی

قادری سمنانی دارالافتا ۔ کولکاتا 46

مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا

زمرہ: وتر کا بیان

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 18-10-2024

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A