کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ عبد الوھاب صاحب کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے اپنے وارثین میں چار بیٹے ( محمد یعقوب ، محمد سلیم ، محمد رفیق اور محمد شفیق ) دو بیٹی ( رابعہ خاتون ، زہرا خاتون) چھوڑے ہیں ۔ ان کے چھوڑے ہوۓ ترکہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں کیسے تقسیم ہوگا جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عطا فرمائیں نوازش ہوگی۔
سائلہ : زہرا خاتون کولکاتا
الجواب بعون الملک العزیز الوھاب و اللھم ھدایة الحق والصواب پوچھی گئی صورت میں بعد تقدیم ماتقدم علی الارث مرحوم کے کل ترکہ کو دس حصوں میں تقسیم کیا جاۓ دو دو حصہ ہر ایک بیٹا کو اور ایک ایک حصہ دونوں بیٹی کو دیا جاۓ ۔ قال تعالیٰ عزوجل : یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ ۔اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر (سورہ نساء)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
کتبہ
العبد المذنب
محمد وسیم خان اشرفی جالوی
قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا
مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
زمرہ: چار بیٹا اور دو بیٹی میں وراثت کیسے۔۔۔
حالت: نمایاں
شامل کردہ تاریخ: 09-05-2026
*کیا فرماتے ہیں علماۓ دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ایک شخص کی زوجہ کا انتقال ہو گیا ہے اور اس نے اپنے وارثین میں ایک شوہر دوبیٹا اور دو بیٹی چھوڑی ہیں ۔ از روے شرع مرحومہ کی پوری جائداد منقولہ و غیر منقولہ کیسے تقسیم ہوگا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عند الله ماجور ہوں۔*
سائل : حافظ محمد دانش رضا سمستی پوری
*الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ فی المفسرہ بعد تقدیم ما تقدم علی الارث مرحومہ کے کل ترکہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے، ایک حصہ شوہر کو دیا جائے، پھر باقی تین حصوں کو چھ حصوں میں تقسیم کرکے ہر بیٹے کو دو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے۔بصورت دیگر 8 حصوں میں تقسیم کرکے دو حصے شوہر کو دیا جاۓ اور دو دو حصے ہر بیٹے کو اور ایک ایک حصے ہر بیٹی کو دیا جاۓ۔قرآن شریف میں ہے: اِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ۔ ( سورہ نساء) و قال تعالی فی موضع الآخر : یو صیکم الله فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین ٠ (سورہ نساء) والله و رسوله اعلم بالصواب ۔*
کتبه
العبد المذنب
محمد وسیم اصغر خان اشرفي جالوي
خادم : قادری سمناني دار الافتا کولکاتا 46
مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
زمرہ: ایک شوہر، دوبیٹا اور دوبیٹی میں وراثت کیسے تقسیم۔۔۔
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 30-04-2026
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ خالدہ کا انتقال ہو گیا ہے وہ اپنے ورثہ میں ایک شوہر دو بیٹا اور چار بیٹی چھوڑی ہیں۔اپنی حیات میں انہوں نے ایک بیٹے کو کم و بیش چھ لاکھ روپیے دی تھی اب ان کے انتقال کے بعد ان کے چھوڑے ہوۓ یعنی پیسہ و زیورات کو شوہر اور اولادوں میں کیسے تقسیم ہوگا۔ نیز پہلے جس بچے کو پیسہ دی ہے اس کو بھی شامل کرکے باٹا جاۓ گا۔۔
سائل : محمد رشید خان پلانٹ ہائٹھ تلجلا روڈ کولکاتا 46۔
الجواب بعون الملك العزيز الوهاب و اللھم ہدایة الحق والصواب پوچھی گئی صورت میں سب سے پہلے مرحومہ کے تجہیز و تکفین کے اخراجات کو پوراکیاجائے ، پھر اگر قرض ہے تو اس کی ادائیگی کی جائےاور اگر غیر وارث کے لیے کوئی وصیت ہو تو اسے ثلث مال سے پوری کی جائے ۔۔
اس کےبعد سوالات مذکورہ کےمندرجہ ذیل جوابات حاضرہیں۔۔
1۔ اگر والدہ نے رقم بطور قرض دی ہو تو شامل کیا جاےگا اور اگر بطور ہبہ و تحفہ دی ہو تو اس رقم کو وراثت میں شامل نہیں کیاجاۓگا۔۔۔
2۔ مرحومہ کی کل جائداد منقولہ و غیر منقولہ کو پہلے چار جگہ تقسیم کی جاۓ اور ایک حصہ مرحومہ کے شوہر کو دی جاۓ۔ قرآن شریف میں ہے :
وَلَـكُمۡ نِصۡفُ مَاتَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ۔ ( سورہ نسآء )
"اور تمہارے لئےاس کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو ، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لیے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے یہ بھی اس وصیت کے پورا کرنے کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کی (ادائیگی ) کے بعد"۔۔
باقی تین حصے کو آٹھ جگہوں پر تقسیم کیاجاۓ اور دو دو حصے ہر بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو دیاجاۓ ۔ قرآن شریف میں ہے : یو صیکم الله فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین ٠ "اللہ تمہیں تمہاری اولاد کی وراثت کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لیے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے" ۔ (سورہ نساء ) ۔
بصورت دیگر کل مال کو 32 حصوں میں تقسیم کیا جاے۔ 8 حصے شوہر کو دیا جاۓ اور چھ چھ حصے ہر بیٹے کو اور تین تین حصے کرکے ہر بیٹی کو دیا جاۓ۔ھذا ما ظہر لي من العلم و الله عندہ حسن الصواب
کتبه
العبد المذنب
محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی
قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
۔۔
مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
زمرہ: وراثت
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 27-04-2026
کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ حج بیت اللہ کس پر فرض ہے؟ سائل : محمد اقبال عالم اشرفی ۔
جواب: حج فرض ہونے کی آٹھ شرطیں ہیں جب تک وہ سب نہ پائی جائیں حج ادا کرنا فرض نہیں ہوتا ہے ۔(۱) اسلام یعنی مسلمان ہونا (۲) دار الحرب میں ہوتو یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اسلام کے فرائض میں حج ہے اور دار الاسلام میں ہے تو اگرچہ حج فرض ہونا معلوم نہ ہو تب بھی فرض ہو جائے گا کہ دار الاسلام میں فرائض کا علم نہ ہونا عذر نہیں۔ (۳) بالغ ہونا، نابالغ پر فرض نہیں۔ (۴) عاقل ہونا، مجنون پر نہیں۔ (۵) آزاد ہونا، باندی غلام پر حج فرض نہیں۔ (۶) تندرست ہو کہ حج کو جاسکے اعضا سلامت ہوں۔ (۷) سفر خرچ کا مالک ہو اور سواری پر قادر ہو خواہ سواری اس کی مِلک ہو یا اس کے پاس اتنا مال ہو کہ کرایہ پر لے سکے۔ (۸) وقت یعنی حج کے مہینوں میں تمام شرطیں پائی جائیں اوراگردور رہنے والا ہو تو جس وقت وہاں کے لوگ جاتے ہوں اس وقت شرطیں پائی جائیں اور اگر شرطیں ایسے وقت پائی جائیں کہ اب نہیں پہنچے گا تو فرض نہ ہوا۔ (فتاویٰ ہندیہ، جلد اول، کتاب المناسک، باب اول فی تفسیر الحج و فرضیتہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ
محمد وسیم اصغر خان اشرفی عفی عنہ
قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
زمرہ: حج فرض ہونے کی شرطیں۔۔۔
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 15-04-2026
بسم الله الرحمن الرحيم
نحمده و نصلي على رسوله الكريم
تعال إلى اللغة العربية۔ آئیں عربی سیکھیں۔
الدرس الثالث(تیسرا سبق)
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ
آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت۔
وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ
اور آپ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت و برکت ہو۔
كَيْفَ أَنْتَ يَا حَبِيبِي؟
اے دوست آپ كيسے ہیں؟
الْحَمْدُ لِلّٰهِ أَنَا طَيِّبٌ
الحمد لله ميں اچها ہوں٠
و كَيْفَ أَنْتَ يَا أَخِي؟
اے بهائ! آپ کیسے ہیں؟
الْحَمْدُ لِلّٰهِ بِخَيْرٍ وَ عَافِيَةٍ
الحمدلله! خير و عافيت سے ہوں .
مَا اسْمُكَ الْكَرِيمُ؟
آپ کا اسم شریف کیا ہے؟
اسْمِي مُحَمَّد حَامِد الْأَشْرَف۔
ميرا نام محمد حامد اشرف ہے
مَا اسْمُ أَبِيْكَ؟
آپ کے والد کا نام کیا ہے؟
اسْمُ وَالِدِي الْكَرِيمِ الْمُفْتِي مُحَمَّد مُنْظَر حَسَن خَان الْأَشْرَفِي۔
ميرے والد كا نام مفتى محمد منظر حسن خان اشرفی مصباحى ہیں.
مَا اسْمُ أُمِّكَ؟
آپ کى والدہ کا نام کیا ہے؟
اسْمُ أُمِّي رَشِيدَة۔
ميرى والده كا نام رشیدہ ہے.
أَيْنَ بَيْتُكَ؟ وَ مَا عُنْوَانُهُ الْكَامِلُ؟
آپ کا گھر کہاں ہے؟اور اس کا پتہ کیا ہے؟
هٰذَا عُنْوَانِي الْكَامِلُ -
يہ ميرا مكمل پتہ ہیں.
بَيْتِي فِي شِمَالِ الْهِندِ فِي وِلَايَة بِهَار
ميرا گهر شمالى ہندوستان رياست بهار ميں ہیں.
وَ قَرْيَتِيْ جالے، خان محلة، اشرفي منزل ، و مَكْتَبَتِيُّ الْبَرِيْد جالے ، و مُدِيْرِيَّتِيْ دربنغة ، والولايةُ بهار.
اور ميرى بستى جالے، خان محلہ، اشرف منزل، ڈاک خانہ جالے، ضلع دربهنگه ، اور صوبه بہار۔
مَا مِھْنَتُكَ؟/ ما شُغْلُكَ؟
آپ کا مشغلہ کیا ہے؟
شُغْلِي الْدِّراَسَةُ.
میری مصروفیت پڑهائی ہیں۔
أَيْنَ تَدْرُسُ؟/ این تَقْرَأُ ؟
آپ کہاں پڑھتے ہیں؟
أَدْرُسُ فِيْ كُولْكَاتَا (کلکتہ)
میں کولكاتا میں پڑھتا ہوں۔
مصنف: زیر اہتمام : قطبیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کولکاتا
زمرہ: الدرس الثالث (تیسرا سبق)
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 14-04-2026
بسم الله الرحمن الرحیم
تعال الی اللغة العربیة (آئیں عربی سیکھیں)
الدرس الثاني ( دوسرا سبق )
کلمات استفہام
استفہام کے معنیٰ پوچھنا، سوال کرنا،
کلمات استفہام وہ الفاظ ہیں جن کے ذریعہ سوال کیا جائے ۔ جیسے اردو میں کیا ، کب، کیسے ، کیوں، کیونکہ وغیرہ اور عربی میں ھل ، أ ، ما وغیرہ ۔
کلمات استفہام کی دو قسمیں ہیں ۔
1۔ حروف استفہام ۔
2۔ اسماے استفہام ۔
حروف استفہام صرف دو ہیں ۔ "ہمزہ " (أ) اور " ھَلْ " ۔
جیسے أھٰذا مِفْتَاحٌ؟ (کیا یہ چابی ہے ؟)
ھَلْ عِنْدَكَ کِتَابٌ ؟(کیا تیرے پاس کتاب ہے)
2۔ اسماء استفہام مشہور یہ ہیں۔
۱۔ مَنْ، کون۔ ۲۔ مَا، کیا۔ ۳۔ أَیٌّ،کون سا۔ ۴۔ أَیَّۃُ،کون سا۔ ۵۔ مَاذَا،کیا۔ ۶۔کَمْ،کتنا۔ ۷۔ کَیْفَ،کیسا۔ ۸۔ مَتٰی،کب۔ ۹۔ أَیْنَ،کہاں۔ ۱۰۔ أَنّٰی،کہاں سے۔ ۱۱۔ أَیَّانَ،کب۔١٢۔ لماذا،کیوں۔
زیر اہتمام! قطبیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کولکاتا
مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
زمرہ: آئیں عربی سیکھیں ( دوسرا سبق )
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 13-04-2026
بسم الله الرحمن الرحیم
(این ایچ اکیڈمی تلجلا روڈ کولکاتا 46)
تعال إلى اللغة العربية
(آئيں عربى سيكهيں)
الدرس الأول ( پہلا سبق )
*اسماے اشارہ :* وہ الفاظ جو کسی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ جیسے اردو میں " یہ ، وہ " اور عربی میں " ھٰذا ، ذٰلكَ "
*مشارٌ الیه :* وہ ہے جس کی طرف اشارہ کیا جاۓ ۔ جیسے ھٰذا زیدٌ ( یہ زید ہے ) اس مثال میں "ھٰذا" اسم اشارہ ہے اور "زیدٌ " مشار ٌ الیه ہے ۔
*اسماے اشارہ کی دو قسمیں ہیں :*
اسم اشارہ قریب ( قریب کی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے )۔
اسم اشارہ بعید ( دور کی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے )
*تنبیہ !*
اسم اشارہ میں جس چیز کی بات ہورہی ہو اس کا سامنے ہونا یا اس کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے ۔
*اسم اشارہ قریب مذکر کے لیے:*
ھٰذا ( یہ ایک مرد )
ھٰذان / ھٰذَیْنِ ( یہ دو مرد )
ھٰؤُلاَءِ (یہ سب مرد )
*اسم اشارہ قریب مؤنث کے لیے :*
ھٰذِہٖ ( یہ ایک مؤنث )
ھَاتَانِ / ھَاتَیْنِ ( یہ دو عورتیں )
ھٰؤُلاَءِ (یہ سب عورتیں )
*اسم اشارہ بعید مذکر کے لیے :*
ذَاكَ/ ذٰلِكَ ( وہ ایک مذکر )
ذَانِكَ/ ذَیْنِكَ ( وہ دو مرد )
اُولٰئِكَ ( وہ سب مرد )
*اسم اشارہ بعید مؤنث کے لیے:*
تَاكَ/ تِلْكَ ( وہ ایک مؤنث)
تَانِكَ/ تَیْنِكَ ( وہ دو عورتیں )
اُولٰئِكَ ( وہ سب عورتیں )
زیر اہتمام: قطبیہ ایجو کیشنل ویلفیر ٹرسٹ کولکاتا
مصنف: مفتی محمد وسیم اصغر خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دارالافتا کولکاتا
زمرہ: (الدرس الاول )اسماے اشارہ
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 12-04-2026
مسئلہ وراثت
786/92
کیافرماتےہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلئہ ذیل میں کہ ابراہیم خان کا انتقال ہوگیاہے
ابراہیم خان کے ورثاء میں دو بیوی ،اور ایک مطلقہ بیوی جس کی عدت ان کی زندگی ہی میں گزرچکی ہے ۔۔والدہ،اور پانچ بیٹےہیں۔۔ان سب کا ابراہیم خان کی جائیداد میں شرعاً کتنا کتنا حق ہوتاہے۔۔جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔۔
المستفتی: وارثین ابراہیم خان مرحوم کرلا ممبئی۔
الجواب بعونِ الملک الوهّاب
ابراہیم خان مرحوم کی جائیدادِ منقولہ و غیر منقولہ میں سےسب سے پہلےمتوفی کے تجہیز و تکفین کا خرچ نکالاجائے گا، اس کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کیا جائے گا، اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں وصیت کی ہو تو وصیت کو ثلث مال کے اندر نافذ کی جائے گی۔ ان تمام امور کی تکمیل کے بعد باقی ماندہ ترکہ کو شرعی حصص کے مطابق ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔ ابراہیم خان مرحوم کی وہ مطلقہ بیوی جس کی عدت مرحوم کی حیات میں مکمل ہوچکی ہے، اس کا مرحوم کی جائیداد میں کوئی حق نہیں ہے، وہ ترکہ سے محروم ہوگی، کیونکہ فقہاء فرماتے ہیں:
المطلَّقةُ لا تَرِثُ۔۔
ابراہیم خان مرحوم کی موجودہ بیویوں کا، اولاد کی موجودگی میں آٹھواں حصہ (1/8)ہے ، جو دونوں بیویوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔
جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ﴾ (النساء: )
اسی طرح ابراہیم خان مرحوم کی والدہ کو اولاد کی موجودگی میں چھٹا حصہ (1/6) ملے گا۔
جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:
﴿وَلِابویه لکل واحد منھما السدس مماترک ان کان له ولد﴾ (النساء: )
ان حصص کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ باقی بچے گا، وہ تمام کا تمام پانچوں بیٹوں میں مرحوم کے عصبہ ہونے کی بنا پر برابر تقسیم کیا جائے گا۔ بصورت دیگر چوبیس حصوں میں تقسیم کیا جاۓ ، چار حصے ماں کو ، تین حصے دونوں زوجہ میں اور باقى سترہ حصے مرحوم کے پانچوں بیٹوں میں تقسیم ہوجاۓ گا۔
فقط، والله ورسوله أعلم بالصواب
كتبه :فقیر اشرفی محمد وسیم خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا
مصنف: فقیر اشرفی محمد وسیم خان اشرفی جالوی قادری سمنانی دار الافتا کولکاتا
زمرہ: مسئلہ وراثت
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 30-01-2026
https://www.youtube.com/live/FbEMLo-It38?si=Wd6zKC_LfIUwtbu9
مصنف: منجانب: قطبیہ ایجوکیشنل اینڈ ایلفیر ٹرسٹ کولکاتا و اراکین دارالعلوم اشرفیہ قطبیہ تلجلا روڈ
زمرہ: جلسہ و انعامی مسابقہ
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 12-01-2026
https://www.youtube.com/live/FbEMLo-It38?si=OgXSSwWtMezvc_zI
مصنف: علماے اہل سنت کا بیان
زمرہ: اسلامی معلومات
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 02-01-2026
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.