29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

اقتباسات کی فہرست

Home

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

بہ اجماع علماۓ شریعت و بزرگان طریقت پیر وہی ہوگا جس کے اندر یہ چار شرائط پاۓ جائیں:اور جوان شرائط سے متصف نہ ہوں اس سےمریدنہ ہوں مثلا


1- سنی صحیح العقیدہ ہو۔

2- عالم دین یعنی اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں سے نکال لے اور مابین حلال و حرام تمیز کرسکے ۔

3- فاسق معلن نہ ہو۔

4- اس کا سلسلہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک متصل ہو۔

مجدد اعظم اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

بیعت گرفتن ودر مسند ارشاد نشستن را ازچار ناگزیرست:

یکے آنکہ سنی صحیح العقیدہ باشد زیرا کہ بد مذہبیاں سگان دوزخ اند بدترین خلق چنانچہ درحدیث آمدہ ست۔

دوم: عالم بعلم ضروری بودن کہ ع

بے علم نتواں خدا را شناخت

سوم: اجتناب کبائر کہ فاسق واجب التوہین است ومرشد واجب التعظیم ہر دو چہ گونہ بہم آید۔

چہارم: اجازت صحیحہ متصلہ كما أجمع عليه أهل الباطن

ہر کہ ازنہا ہیچ شرطے را فاقد ست او را نشاید پیر گرفتن۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 21 مطبوعہ مرکز اہل سنت برکات رضا]

وَعَن معقل بن يسَار رَضِي الله عَنهُ قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لأَن يطعن فِي رَأس أحدكُم بمخيط من حَدِيد خير لَهُ من أَن يمس امْرَأَة لَا تحل لَهُ.رَوَاهُ الطَّبَرَانِيّ وَالْبَيْهَقِيّ وَرِجَال الطَّبَرَانِيّ ثِقَات رجال الصَّحِيح".

(الترغيب والترهيب للمنذري، كتاب النِّكَاح وَمَا يتَعَلَّق بِهِ، رقم الحدیث:2938، ج:3، ص:26، ط:دارالکتب العلمیۃ)


نیز پیر نامحرم اپنی جوان مریدہ کے سروں پر ہاتھ نہیں رکھےاور جو نہایت بوڑھی ہو اس کے سرپر بھی ہاتھ رکھنے سے بچنا بہتر ہے کیوں کہ فتنہ کا اندیشہ ہے ۔ قرآن شریف میں یے: والفتنة اکبر من القتل۔ واللہ اعلم بالصواب


مصنف: کتبہ (مفتی)محمدوسیم خان اشرفی قادری سمنانی دارالافتاء کولکاتا

زمرہ: شریعت و بزرگان طریقت پیر

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 17-09-2024

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب اللھم ھدایة الحق والصواب بہت سے لوگوں کا تجربہ ہے کہ اس کے اندر پانی سرایت کرجاتا ہےاگر کرتا ہو تو پھر اس کو ہٹانے کی کوئی حرج نہیں ورنہ حتی الامکان کوشش کی جاۓ اس رنگ کو زائل کرنے کی پھر بھی زائل نہ ہوۓ تو معاف ہے اور وہ پکا رنگ و روشنائی کے درجہ میں قرار دیا جاۓ گا۔ لہذا اس کی وجہ سے وضو وغسل میں شکوک و شبہات نہ کیا جاۓ۔ جیساکہ کتب فقہ میں ہے

ولا یضر بقاء أثر کلون وریح لازم فلا یکلف في إزالتہ إلی ماء حار، أو صابون ونحوہ۔ (شامي، باب الأنجاس، قبیل مطلب في حکم الصبغ …، کراچی ۱/ ۳۲۹)والمراد بالأثر اللون والریح، فإن شق إزالتہما سقطت۔ (البحر الرائق، باب الأنجاس، کوئٹہ ۱/ ۲۳۷،☜) فقط و اللہ سبحانه وتعالیٰ اعلم ورسوله الاولی و نبیه المجتبی و رسوله المرتضی

کتبہ

فقير اشرفي

مصنف: محمد وسیم اصغر خان الأشرفي الجالوي عفي عنه

زمرہ: وضو و غسل کا حکم

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 12-09-2024

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A