الجواب بعون الملک العزیز الوھاب اللھم ھدایة الحق والصواب بہت سے لوگوں کا تجربہ ہے کہ اس کے اندر پانی سرایت کرجاتا ہےاگر کرتا ہو تو پھر اس کو ہٹانے کی کوئی حرج نہیں ورنہ حتی الامکان کوشش کی جاۓ اس رنگ کو زائل کرنے کی پھر بھی زائل نہ ہوۓ تو معاف ہے اور وہ پکا رنگ و روشنائی کے درجہ میں قرار دیا جاۓ گا۔ لہذا اس کی وجہ سے وضو وغسل میں شکوک و شبہات نہ کیا جاۓ۔ جیساکہ کتب فقہ میں ہے
ولا یضر بقاء أثر کلون وریح لازم فلا یکلف في إزالتہ إلی ماء حار، أو صابون ونحوہ۔ (شامي، باب الأنجاس، قبیل مطلب في حکم الصبغ …، کراچی ۱/ ۳۲۹)والمراد بالأثر اللون والریح، فإن شق إزالتہما سقطت۔ (البحر الرائق، باب الأنجاس، کوئٹہ ۱/ ۲۳۷،☜) فقط و اللہ سبحانه وتعالیٰ اعلم ورسوله الاولی و نبیه المجتبی و رسوله المرتضی
کتبہ
فقير اشرفي
مصنف: محمد وسیم اصغر خان الأشرفي الجالوي عفي عنه
زمرہ: وضو و غسل کا حکم
حالت: عام
شامل کردہ تاریخ: 12-09-2024
© Qutbiya Educational & Welfare Trust. All Rights Reserved.