29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46 +91-9883724452 info@qewt.in

اقتباسات کی فہرست

Home

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب اللھم ھدایة الحق والصواب بہت سے لوگوں کا تجربہ ہے کہ اس کے اندر پانی سرایت کرجاتا ہےاگر کرتا ہو تو پھر اس کو ہٹانے کی کوئی حرج نہیں ورنہ حتی الامکان کوشش کی جاۓ اس رنگ کو زائل کرنے کی پھر بھی زائل نہ ہوۓ تو معاف ہے اور وہ پکا رنگ و روشنائی کے درجہ میں قرار دیا جاۓ گا۔ لہذا اس کی وجہ سے وضو وغسل میں شکوک و شبہات نہ کیا جاۓ۔ جیساکہ کتب فقہ میں ہے

ولا یضر بقاء أثر کلون وریح لازم فلا یکلف في إزالتہ إلی ماء حار، أو صابون ونحوہ۔ (شامي، باب الأنجاس، قبیل مطلب في حکم الصبغ …، کراچی ۱/ ۳۲۹)والمراد بالأثر اللون والریح، فإن شق إزالتہما سقطت۔ (البحر الرائق، باب الأنجاس، کوئٹہ ۱/ ۲۳۷،☜) فقط و اللہ سبحانه وتعالیٰ اعلم ورسوله الاولی و نبیه المجتبی و رسوله المرتضی

کتبہ

فقير اشرفي

مصنف: محمد وسیم اصغر خان الأشرفي الجالوي عفي عنه

زمرہ: وضو و غسل کا حکم

حالت: عام

شامل کردہ تاریخ: 12-09-2024

whatsapp

Get In Touch

29/1, Tiljala Road, Panjabi Para, Kolkata - 46

info@qewt.in

+91-9883724452

A